بولان: بلوچستان کے علاقے بولان میں سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے دوران چار مختلف مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے بعد مسلح افراد پسپا ہو کر پہاڑوں میں چلے گئے، جبکہ صورتحال کے باعث کوئٹہ سبی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی اور ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں۔ذرائع کے مطابق، مسلح افراد نے بولان میں بی بی نانی، آب گم، گرین ہوٹل اور پیر غائب کراس کے مقامات پر ناکہ بندی کی اور گاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی۔ اس دوران، سبی اجتماع سے آنے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چیکنگ کا یہ سلسلہ تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہا، جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔مسلح افراد نے سبی اجتماع سے واپس کوئٹہ جانے والے پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ لیاقت لہڑی کے قافلے کو بھی روکا۔ ذرائع کے مطابق، مسلح افراد نے قافلے کے تین گن مینوں سے اسلحہ چھین لیا، تاہم پارلیمانی سیکرٹری اور ان کے محافظوں کو بحفاظت جانے دیا گیا۔واقعے کے بعد، سیکورٹی فورسز نے علاقے میں گشت بڑھا دیا اور ممکنہ طور پر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔ اطلاعات کے مطابق، فورسز نے علاقے میں متعدد مقامات پر اپنی پوزیشنیں مضبوط کر لی ہیں تاکہ مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
بولان میں سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان 4مقامات پرجھڑپیں، شدید فائرنگ کا تبادلہ

ٹیگز:
بولان
