کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گزشتہ دنوں ڈھاڈر میں قتل ہونیوالی خاتون کے ورثا نے ریڈ زون کے قریب دھرنا دیا جس کے باعث پورے شہر کی ٹریفک جام ہو کر رہ گئی, دھرنا عین اس وقت دیا گیا جب سکولوں کی چھٹی ہونیوالی تھی جس کے باعث بچے بھی گھنٹوں سکولوں کے باہر کھڑے رہے۔شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود ریڈ زون کو عام ٹریفک کیلئے نہیں کھولا جا سکا جس کے باعث پہلے ہی شہر میں ٹریفک متاثر ہو رہی ہے دوسری جانب ہر دوسرے دن مختلف سیاسی جماعتوں ملازمین تنظیموں اور دیگر کی جانب سے ریڈ زون کے قریب دھرنا دیدیا جاتا ہے جس کے باعث ٹریفک مفلوج ہو جاتی ہے اور گھنٹوں لوگ ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں شہریوں نے بتایا کہ ٹریفک جام کی بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی ہوتی ہے کیونکہ دھرنے کے مقام کے چاروں اطرف پولیس کی جانب سے رکاؤٹیں کھڑی کر کے روڈ بلاک کر دئیے جاتے ہیں جس کے باعث ٹریفک کا فلو رک جاتا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعلی سرفراز بگٹی اور دیگر ارباب اختیار کو تجویز دی کہ دھرنے اور جلوسوں کیلئے یا کھلا مقام مختص کیا جائے یا پھر ریڈ زون میں واقع تمام سیکرٹریٹس اور سرکاری دفاتر کلی نوحصار منتقل کر دئیے جائیں جس سے شہر پر نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ زرغون روڈ پر آئے روز احتجاج کا سلسلہ بھی ختم ہو سکے گا۔
کوئٹہ،ریڈ زون کے قریب ڈھاڈر میں قتل ہونیوالی خاتون کے ورثا کا احتجاج،ٹریفک کا نظام متاثر

ٹیگز:
خاتون
