کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے مشروط جنگ بندی معاہدہ منظور کر لیا ابتدا میں 50 اسرائیلیوں اور 150 فلسطینیوں کو رہا کیا جائے گا غزہ میں عارضی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی منظوری دے دی گئی ہے 5 روزہ جنگ بندی اورقیدیوں کا تبادلہ بڑی اہم پیش رفت ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمدعبدالقادرنے کہاکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ جنگ کا اختتام نہیں ہے جنگ جاری رہے گی اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان کے باوجود عارضی جنگ بندی کی بات امید افزاء ہے ڈیڑھ ماہ کی اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں فلسطین میں 12 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید اور 35 ہزار سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں غزہ کا بیشتر علاقہ زمین بوس ہو چکا ہے 1.7 ملین سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 4 یا پانچ روزہ جنگ بندی کے بدلے میں حماس کی قید سے 50 اسرائیلیوں اور اسرائیلی قید سے 150 فلسطینی شہریوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ امدادی سامان کی غزہ تک رسائی بھی ممکن بنائی جائے گی ابتداء میں 50 اسرائیلی خواتین کو رہا کیا جائے گا نصیرت کیمپ، خان یونس، جبالیہ کیمپ اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی بمباری سے مزید وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ نے پریٹوریا میں اسرائیلی سفارت خانہ بند کرنے اور غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق ہونے تک تمام سفارتی تعلقات معطل کرنے کے حق میں قرارداد منظور کر لی ہے اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کو بتایا ہے کہ حماس کے ساتھ کئے گئے معاہدے میں یہ بھی شامل ہوگا کہ ریڈ کراس کی ٹیم حماس کی قید میں موجود دیگر اسرائیلیوں سے ملاقات کرے گی اور ان تک طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ڈیڑھ ماہ کی اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 12 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید اور 35 ہزار سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں، محمد عبدالقادر

ٹیگز:
محمد عبدالقادر
