دمشق: مراکش شدید زلزلے سے لرز اٹھا، زلزلے سے 823 افراد کے لقمہ اجل بن جانے کی اطلاعات ہیں، امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے کے گہرائی 18.5 کلومیٹر تھی امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ مرکزمراکش سے 44 میل دورجنوب مغرب تھا، بہت سے افراد تاحال ملبے میں دبے ہوئے ہیں، اس خوفناک زلزلے سے 150 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ کئی مکانات اور عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جنوب مغربی علاقے میں زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز مراکش شہر سے 75 کلومیٹر دور اطلس کا پہاڑی سلسلہ تھاجبکہ اس کی گہرائی 18.5 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کے مرکز کے قریب ترین موجود مراکش شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ پرانے شہر میں کچھ عمارتیں گر گئی ہیں جوکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں، مقامی ٹیلی ویژن پر تباہ شدہ کاروں پر پڑے ملبے کے ساتھ گرے ہوئے مسجد کے مینار کی تصاویر نشر کی گئیں مراکش کے وزارت داخلہ نے 823 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق زلزلے کے بعد بڑے شہروں کی بجلی منقطع ہوگئی ہے جبکہ یونیسکو کیجانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دی گئی تاریخی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔مراکش کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایگھل ایک پہاڑی علاقہ ہے جس میں چھوٹے کاشتکاری والے دیہات ہیں، زلزلے کے جھٹکے ساحلی شہروں رباط، کاسا بلانکا اور ایساویرا میں محسوس کیے گئے، زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے آیا۔
یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دی گئی تاریخی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کئی عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں ہیں، درجنوں عمارتوں کو جزوی نقصان بھی پہنچا، زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، عوام سے ہسپتالوں میں خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

