اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کچھ دیربعد جاری کیا جائے گا واضح رہے اسلام آباد کی سیشن عدالت نےتوشہ خانہ فوجداری کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال قید کی سزا اور 5 سال کے لئے نااہل قرار دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کور ٹ کے جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں 30 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کیا جج ہمایوں دلاور نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے،ملزم چیئرمین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے، 1 لاکھ جرمانے کی عدم ادائیگی پر 6 ماہ مزید قید کاٹنا ہوگی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کیس کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دینے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء پیش نہ ہوئے، وکلاء کی عدم پیشی پر کیس کے ناقابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست کو خارج کیا جاتا ہے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ شکایت کنندہ ملزم کیخلاف مصدقہ شواہد پیش کرنے میں کامیاب رہا، شواہد کی نظر میں ملزم کیخلاف الزامات ثابت ہوتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے سال 2018 سے 2020 کے دوران اثاثوں کی جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں، چیئرمین پی ٹی آئی کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب پائے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے تحائف سے متعلق معلومات میں دھوکے بازی سے کام لیا، کسی بھی شک کے بغیر چیئرمین پی ٹی آئی کی بے ایمانی ثابت ہوچکی ہے۔
اٹارنی جنرل نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو کھانے میں دیسی چکن اور بکرے کا گوشت دیا جاتا ہے، ان کیلئے پنکھا اور روم کولر بھی دستیاب ہے جبکہ اہلخانہ اور وکلا کی بھی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سب سے محفوظ ہائی آبزرویشن بلاک میں رکھا گیا ہے، 11 فٹ لمبے اور 9 فٹ چوڑے سیل میں ایک پنکھا اور روم کولر کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ واش روم میں بھی توسیع کی گئی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق سیل میں ایک بستر، گدا، چار تکیے، کرسی، میز اور جائے نماز بھی دی گئی ہے۔ کمرے میں 21 انچ ایل ای ڈی ٹی وی موجود ہے جبکہ روزانہ اخبار بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو 13 بائی 44 فٹ کی جگہ میں چیل قدمی کی سہولت بھی حاصل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو فرمائش پر ہفتے میں دو دن جیل میں دیسی گھی میں تیار دیسی چکن جبکہ ایک دن دیسی گھی میں مٹن دیا جاتا ہے۔ 4 قرآنی نسخے انگریزی ترجمے کیساتھ جبکہ اسلامی تاریخ کی 25 کتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں جیل کے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ کے ماتحت چار اہلکاروں کو چیئرمین پی ٹی آئی کی حفاظت پر معمور کیا گیا ہے۔ چہل قدمی کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے 3 کیمرے نصب کیے گئے جبکہ پرائیویسی کو مد نظر رکھتے ہوئے سیل کے اندر کوئی کیمرہ نہیں لگایا گیا ہے۔
بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے سیل میں 63 کے وی کا جنریٹر بھی لگایا گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 10، 15 اور 21 اگست کو ان سے ملاقاتیں کیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لیے پانچ ڈاکٹرز کا ڈیوٹی روسٹر بنایا گیا ہے، صبح شام اور رات کو ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔

