کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے راجی راہشون میر اسداللہ بلوچ کو بی این پی عوامی کا آئینی صدر قرار دے کر میر اسرار زہری کی درخواست بابت اعتراضات جمع شدہ کوائف خارج کر دیا۔سابق صدر کا لیگل لائف اکتوبر 2022 کو ختم ہو چکی تھی، مدت ختم ہونے پر عہدیدار کا اسٹیٹس ختم ہو جاتا ہے۔ بی این پی عوامی میں ہیڈ آف دی پارٹی صدر کو سمجھا جاتا ہے، جمہوری نظام کے تحت پارٹی میں الیکشن لڑنے کی اجازت ہے جو فریش مینڈیٹ کے ساتھ منتخب ہوتا ہے وہی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آٹیکل 208، 209 الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت سرٹیفکیٹ جمع کرنے کا اہل ہے۔کیس آرگومنٹ میں سیکرٹری جنرل کے اختیارات اور صدر کی آئینی حیثیت کے متعلق سیر حاصل بحث ہوئی، پارٹی اسٹریکچر اور اداروں (institutions) کے اختیارات کا حوالہ دیا گیا۔ رول156 158 آف الیکشن رولز 2017 کے مطابق ضروری دستاویزات پارٹی کے نو منتخب صدر کے ہدایت پر جمع ہونگے۔ لہٰذہ مورخہ 19/02/2023 کا لیٹر جو راجی راہشون میر اسداللہ بلوچ نے انٹرا پارٹی الیکشن بی این پی عوامی کے متعلق جو دستاویزات بذریعہ غلام فاروق بلوچ جمع کئے تھے، جن کے تفصیلات پارٹی کے وکلاء نے ایک پیپر بک کے زریعے دوران سماعت درخواست دے کر جمع کئے تھے ان کی روشنی میں کاغزات منظور اور راجی راہشون میر اسداللہ بلوچ کو پارٹی کا صدر ڈیکلیئر کیا گیا۔انصاف کا بول بالا ہو۔ حق پر فیصلہ دے کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ثابت کیا کہ میرٹ کا احترام، آئین کی پاسداری اور قانون کی سربلندی کیلئے مزید بولا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جو اسپیکنگ آرڑر جاری کیا وہ اہم، ساؤنڈ اور سیاسی پریکٹس میں قانون سے نزدیک ترین ہے۔ اس طرح کے فیصلوں اور احکامات سے سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کو فروغ ملیگا اور غیر جمہوری مزاج کے لوگوں کو روکا جا سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے میر اسد بلوچ کو بی این پی عوامی کا آئینی صدر قرار دے کر میر اسرار زہری کی درخواست بابت اعتراضات جمع شدہ کوائف خارج کر دیا

ٹیگز:
الیکشن کمیشن
