کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پی اینڈٹی کالونی میں پینے کے پانی کابحران شدت اختیارکرگیا، شدیدگرمی میں صارفین پانی کے حصول کے دردربھٹکنے پرمجبور، متعلقہ حکام مسئلہ حل کرنے کی بجائے طفل تسلیاں دے کر جان چھڑاؤکرتے ہیں، اہل علاقہ نے جنرل منیجرپی ٹی سی ایل ودیگر حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ کردیا۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ”پی اینڈٹی کالونی“ جی پی اوچوک میں پینے کا پانی ناپیدہوچکا ہے، جولائی کے مہینے کاآغازہونے کے ساتھ ہی کالونی میں پانی کے مصنوعی بحران کی صورتحال پیداکی گئی ہے اورٹیوب ویل سے پانی کے پائپ لائنوں میں کم پانی چھوڑاجاتا ہے جو کہ تمام گھرانوں تک نہیں پہنچتا، کئی گھنٹے ڈونکی پمپ چلانے کے بعدبھی ایک بوندپانی نہیں آتاجس سے صارفین عاجزآگئے ہیں۔ اہل علاقہ نے بتایاکہ شدیدگرمیوں کے موسم میں پانی کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ہے، معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اوران کے گھروں میں وضوکرنے کے لئے پانی دستیاب نہیں جس کی وجہ سے انہیں مشکلات درپیش ہیں۔صارفین نے بتایاکہ پی ٹی سی ایل حکام ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں سے مختلف امورکی مد میں خطیررقم کٹوتی بھی کرتے ہیں مگریہاں پرسہولیات دستیاب نہیں، انسانی زندگی کے لئے پانی ضروری اوربنیادی ضرورت ہے مگراس میں بھی متعلقہ حکام لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں جوباعث تشویش ہے۔ انہوں نے بتایاکہ صبح سے شام اوررات گئے تک لوگ منتظررہتے ہیں مگرنلکوں سے پانی نہیں آتااوروہ مایوس ہوکرسوجاتے ہیں، ستم ظریفی کی بات تویہ ہے کہ استفسار کرنے پربھی انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیاجاتا بلکہ متعلقہ ذمہ داران جھوٹی تسلیاں دے کرجان چھڑاؤ کرتے ہیں۔ انہوں نے جی ایم پی ٹی سی ایل ودیگر حکام سے اپیل کی کہ گرمیوں کے موسم میں قلت آب کامسئلہ حل کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان کی مشکلات کم ہوسکیں۔
کوئٹہ، پی اینڈٹی کالونی میں پینے کے پانی کابحران شدت اختیارکرگیا

ٹیگز:
پینے کے پانی کابحران
