کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے یونان حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔سماجی رابطے کی سائٹ پرسینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یونان میں کشتی حادثہ بہت انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی انسانی المیہ ہے۔ سیکڑوں انسانوں کی موت کا سبب بننے والے افراداور ایجنٹوں کو گرفت میں لے کر قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کا کڑا محاسبہ کرے،چند روپوں کی خاطر انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔انہوں نے کہا کہ بیروزگار نوجوان مشکل حالات میں بیرون ملک اچھے مستقبل کے لئے غیر قانونی راستے اور اختیار کر تے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایجنٹوں کی صورت میں ظالم افراد ان بیروزگار نوجوانوں کو بیرونی ملک پر تعیش زندگی کے سہانے خواب دکھا کر ان کی اور ان کے والدین کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں۔یہ نوجوان دشوار کن حالات سے گزر تے ہیں جن میں اکثر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس سے پہلے بھی کئی حادثے ہو چکے ہیں جن میں سیکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں لیکن غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کے لئے ایجنٹ بیروزگار نوجوانوں کو ورغلاتے رہتے ہیں اور نوجوان بہتر مستقبل کے لئے رسک لیتے ہیں اور بہتر مستقبل کے لئے اپنی اور اپنے والدین کی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹانے کے ساتھ ساتھ اپنی جانیں بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے افراد کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو یہ بڑا صدمہ صبر و ہمت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں شناخت کے بعد پاکستان لائی جائیں۔انہوں نے یونان کوسٹ گارڈ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈوبتے ہوئے لوگوں کو نہ بچا کر یونان کوسٹ گارڈ نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والوں اور ایجنٹوں کی کڑی نگرانی کرے اور بارڈرز پر چیکنگ کا موثر نظام قائم کرے تاکہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہو۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ یہ سلسلہ 70 کی دہائی میں شروع ہوا جب لوگوں نے روزگار کیلئے باہر جانا شروع کیالیکن لیگل طریقے سے بیرون ملک جانے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طریقے سے باہر جانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا،۔ملک میں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے بچے باہر جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ مجبوری کی وجہ سے اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ انسانی اسمگلروں کیخلاف سخت ترین ایکشن ہونا چاہیے، انسانی اسمگلنگ قومی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے موثر اقدامات نہایت ضروری ہیں۔
یونان کشتی حادثہ ناقابل تلافی انسانی المیہ ہے، حکومت انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کا کڑا محاسبہ کرے، ثمینہ ممتاز زہری

ٹیگز:
ثمینہ ممتاز زہری
