خیبرپختونخوا:خیبرپختونخوا (کے پی) میں سوات اور اطراف میں 3.9 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔نیشنل سسمک مانیٹرنگ سینٹر (این ایس ایم سی) کے مطابق زلزلے کی شدت 3.9 تھی اور سوات سمیت خیبر پختونخوا کے متعدد علاقے لرز گئے۔رپورٹ کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن میں 138 کلومیٹر گہرا تھا جو سہ پہر ساڑھے تین بجے آیا۔
سوات کے علاوہ مینگورہ،باجوڑ، دیر، بونیر،شانگلہ، چترال اور دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے باعث شہری خوف زدہ ہوئے اور گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی۔
خیال رہے کہ تین روز قبل بھی پشاور سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں 6.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور خوش قسمتی سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔
میٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.4 تھی اور اس کا مرکز تاجکستان میں 80 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا تھا کہ زلزلے کا مرکز تاجکستان کے شہر مرغوب سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور اس کی شدت 5.9 اور گہرائی 91.6 کلومیٹر تھی۔
پاکستان میں اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے علاوہ خیبر پختونخوا میں مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں تین منٹ تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ ایشین نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
خیال رہے کہ 16 اکتوبر 2020 کو بھی پشاور اور سوات سمیت خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جس کی شدت 4.9 ریکارڈ کی گئی تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کا صوبہ بدخشاں تھا جہاں اس کی گہرائی 27 کلو میٹر تھی اور شدت 4.9 ریکارڈ کی گئی تھی۔
یاد رہے 16جون 2020 کو بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں دن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے تاہم کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
سرکاری خبر ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ صبح ساڑھے چھ بجے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی۔پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز تاجکستان میں سطح زمین سے 112 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

