کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان میں 19سالوں بعد منعقعد ہونے والے 34 ویں قومی کھیلوں کے سلسلے میں روائتی مشعل آج بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز لایا گیا جسے وائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر عبدالرحمن خان سمیت یونیورسٹی کے قومی، بین الاقوامی کھلاڑیوں اور انتظامیہ نے یونیورسٹی کے احاطے میں گمایا۔ آج یہ دیکھ کر میں بہت خوش ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہاں موجود ہر پاکستانی کا دل خوش ہو رہا ہوگا34ویں نیشنل گیمز بیوٹمز میں ہو رہے ہیں یہاں کے ہر سٹوڈنٹ کے چہرے پہ خوشی نظر آ رہی ہے کیوں کہ19سال بعد بلوچستان میں یہ گیمز ہو رہے ہیں ٹوٹل 35گمیز میں سے10کھیلوں کی میزبانی بیوٹمز کے پاس ہے جس پہ ہمیں فخر ہے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، ایچ ای سی، بلوچستان سپورٹس بورڈ اور میں بیوٹمز انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے ممبران کو خوش آمدید کہتاہوں مجھے امید ہے کہ ان کا یہاں ہر طرح سے خیال رکھا گیا ہو گامجھے امید ہے کہ آج کے ینگ جنریشن اس سے بہت کچھ سیکھے گا اور انشاء اللہ بلوچستان کے جو سٹوڈنٹس ہے وہ میل ہو یا فیمیل وہ پاکستان لیول پر بھی اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرئینگے۔میں آئندہ کے لیے بھی ایچ ای سی اور بلوچستان سپورٹس بورڈ کو ویلکم کہوں گا اورمیرے خیال میں بلوچستان میں سب سے زیادہ کھیلوں کے حوالے سے سہولیات بیوٹمز میں موجود ہیں ہم چاہ رہے ہیں کہ ان سہولیات کو بروئے کار لایا جائے انشاء اللہ آئندہ اس سے زیادہ کھیلوں کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں ان خایالات کا اظہار وائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر عبدالرحمن خان نے کیا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے نمائندے نے مشعل بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈمینجمنٹ سائنسز کے انتظامیہ کے حوالے کیا اس کے بعدبیوٹمزکے ایڈیشنل ڈائریکٹر سپورٹس مسعودکاسی نے دوڑتے ہوئے مقررہ حد تک دوسرے کھلاڑیوں کے حوالے کیاڈئریکٹر ایڈمن اینڈ کوآرڈینیشن و ڈائریکٹر سپورٹس عبدالقدیم کاکٹر نے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر مشعل وصول کی اور اپنے مقررہ حد کے بعد فٹبال کے انٹرنیشنل کوچ اختر محی الدین کے حوالے کیا اس کے بعد خاتون کھلاڑی مس کنزہ خان نے وصول کیا اور آگے مشعل مس نوشین صابر کو تمایا یوں مشعل ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس ارباب محمد صابر کو ملا انھوں نے اپنے حد ختم ہونے کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس محمد اعظم محمد شہی نے وصول کرکے آخرمیں رجسٹراز بیوٹمز ڈاکٹر ذاہد رؤف اور وائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر عبدالرحمن خان کے سپرد کیا۔وائس چانسلربیوٹمز ڈاکٹر عبدالرحمن خان نے کہا کہ بلوچستا ن میں 19سال بعد قومی کھیلوں کا انعقاد قابل ستائش ہے کہ جس کی وجہ سے یہاں کے کھلاڑیوں کو اعلی معیار کے مقابلوں میں شرکت کا موقع مل رہا ہے اور تمام پاکستان کے کھلاڑیوں کا یہاں آنا اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ یہاں امن نہیں اور یہاں لوگ کھیلوں سے دلچسپی نہیں رکھتے انھوں نے مزید کہا کہ ہم دیگر علاقوں سے آئے تمام کھلاڑیوں اور ان کے آفیشلز کوبیوٹمز میں خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں بیوٹمز بلوچستان میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے وہاں ہم طلباء اور طالبات کو کھیلوں کے بہترین اور قومی لیول کے سہولیات بھی فراہم کررہے ہیں۔علاوہ اذیں وائس چانسلر بیوٹمزڈاکٹر عبدالرحمن خان نے کہا کہ بیوٹمز میں دستیاب بہترین تعلیمی اور کھیلوں کی سہولیات سے نوجوان بھر پور استفعادہ حاصل کر رہے ہیں اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ مثبت رجحانات میں بھی پیش پیش ہیں وائس چانسلر بیوٹمزڈاکٹر عبدالرحمن خان نے بیوٹمز کے ڈائریکٹریٹ آف اسپورٹس کے افسران اور کوچز کوبھی اس کامیابی پر مبارک باد دی اور کامیابی کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہدایت کی علاوہ اذیں یہ بات ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے34 قومی کھیلوں میں سے 10کھیلوں کی میزبانی بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ ااینڈمینجمنٹ سائنسزکررہی ہے اور ہم انشا اللہ اگلی مرتبہ 15 سے20 کھیلوں کی میزبانی اور سہولیات فراہم کریں گے۔
34ویں نیشنل گیمز بیوٹمز میں ہو رہے ہیں یہاں کے ہر سٹوڈنٹ کے چہرے پہ خوشی نظر آ رہی ہے ، ڈاکٹر عبدالرحمن خان

ٹیگز:
ڈاکٹر عبدالرحمن خان
