اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جب تک سب اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، ملک ’تجربات اور ان کے نتائج کا شکار‘ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ہم سب اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور آئین کی بالادستی ہونی چاہیے، اُس وقت تک ملک تجربات اور ان کے نتائج کا شکار رہے گا انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم وفاق اور تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے اور قانون اور آئین بنانے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے، ملک کے دیگر تمام اداروں کا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین پر عمل کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور پارٹی کے کارکنوں کی عظیم قربانیوں کی بدولت 1973 کا آئین اصل شکل میں بحال ہوا جو جمہوریت سے نفرت اور مخالفت کرنے والوں کی شکست تھی انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے عظیم جدوجہد کی وجہ سے گڑھی خدا بخش بھٹو کا قبرستان شہدا نے آباد کیا جہاں سے جمہوریت کا سورج شہدا کے خون سے طلوع ہوتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ آج اراکین پارلیمنٹ اور جمہوری سیاسی جماعتیں بااختیار پارلیمنٹ کے اصول پر ایک پیج پر متحد ہیں انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر سختی اور ثابت قدمی سے عمل کر کے غیر جمہوری سوچ کو شکست دینا ہوگی، پارلیمنٹ سپریم ہے اور سب کو اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ میثاق جمہوریت پر 2006 میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے درمیان دستخط ہوئے تھے، اس کا مقصد حکومت، جمہوریت، انسانی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کو تقویت دینا تھا، اس میں آئینی اصلاحات، شفاف انتخابات، اقتدار کی منتقلی اور قومی سلامتی کی توثیق کی گئی تھی میثاق جمہویت نے سیاسی مکالمے کو فروغ دیا، تعلقات میں بہتری کا سبب بنا اور پاکستانی سیاست پر مثبت اثرات مرتب کیے، اس کے تمام نکات پر پوری طرح عمل درآمد نہیں کیا گیا تاہم یہ ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

