اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطہ سے گرفتار ،نیب راولپنڈی کے دفتر منتقل کردیاگیا ۔ قومی احتساب بیورو کے مطابق عمران خان کو القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا گیا ۔ چیئرمین نیب کا کہنا ہے قانون کے تحت عمران خان کرپشن کے ملزم ہیں، یکم مئی کو وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے قومی احتساب بیورو (نیب) نے عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا ہے، نیب حکام کے پاس عمران خان کی گرفتاری کے وارنٹ موجود تھے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے نیب انکوائری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں چیئرمین اور ڈی جی نیب راولپنڈی کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سیاسی مخالفین نے بے بنیاد الزامات پر نیب تحقیقات کا آغاز کیا، استدعا ہے کہ عدالت نیب کی انکوائری کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے
القادر یونیورسٹی اسلام آباد کے قریب سوہاوہ میں زیر تعمیر یونیورسٹی ہے۔ یہ منصوبہ القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کا حصہ ہے۔ 5 مئی 2019ء کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔یونیورسٹی کے لیے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے زمین کی خریداری کی گئی تھی۔ نیب اس کیس کی تحقیقات کررہا ہے گذشتہ سال قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے بھی اس معاملے پر عمران خان پر الزامات عائد کیے تھے ۔ القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹی عمران خان اور ان کے اہلخانہ تھے۔ عمران خان پر الزام ہے کہ یونیورسٹی کےلیے 50 کروڑ کی ڈونیشن دی گئی،450 کنال اراضی عطا کی گئی، ان تمام ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
واضح رہے سابق وزیراعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان آج عسکری اداروں کے خلاف بیان بازی پر ضمانت کیس میں پیشی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے سابق وزیراعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عزت صرف ایک کی نہیں ،قوم کے ہر شہری کی ہونی چاہیے، جیل جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں ،سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں، قوم مجھے پچاس سال سے جانتی ہے،مجھےدو بار قتل کرنے کی کوشش کی گئی ،تحقیقات ہونگی تو ثابت کروں گاحملے کرانے والے کون تھے۔
انہوں نے کہا کہ جیل جانےکیلئےذہنی طورپرتیارہوں،نہیں چاہتاقوم کاپیسہ بربادہو،کسی آپریشن کی ضرورت نہیں،وارنٹ لےآئیں میں گرفتاری دےدوں گا۔سابق وزیراعظم نے عوام کا بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے کے خدشے کا اظہار کیا تھا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی میڈیا کوارڈی نیٹر و ترجمان مسرت چیمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک پر حقیقی معنوں میںقبضہ کرلیا گیا،عدالتیں اور عوام کوئی بھی محفوظ نہیں ،فسطائی اور جابر حکومت نے اپنا آخری حربہ بھی آزما لیا ،وکلاء پر بد ترین تشدد کیا گیا ، ان کی آنکھوں میں زہریلا سپرے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب اپنے حقوق کیلئے باہر نکلنا عوام پر فرض ہو چکا ہے ، فسطائیت سے ثابت ہو گیا ملک میں جنگل کا قانون نافذہے ،حکمران ٹولہ کسی بھول کا شکار ہے،بہت جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جارہا ہے انہو ں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد اب الیکشن ہوکر رہیں گے، رینجرز کو اس میں ملوث نہیں کرنا چاہئے ،25 مئی کو بھی رینجرز کا کردار اچھا نہیں تھا، آئی ایم ایف قرض پروگرام میں تاخیر کے بعد پی ڈی ایم حکومت بجٹ نہیںبنا سکتی،الیکشن کےسوا کوئی حل نہیں پی ٹی آئی کارکنوں نے عمران خان کی گرفتاری کےبعد لبرٹی چوک بند کر کے حکومت کےخلاف شدید نعرے بازی کی۔لبرٹی چوک میں احتجاج کے باعث ٹریفک بری طرح متاثرہوگئی۔پی ٹی آئی خواتین کارکن بھی لبرٹی چوک احتجاج میں شامل ہیں۔لبرٹی چوک میں کارکنوںنے ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔
فیصل آبادمیں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف وکلاء سڑکوں پر نکل آئے۔ وکلاء نے ضلع کونسل چوک میں عمران خان کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کیا۔وکلاء نےحکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مقامی قیادت نے پیغام دیتےہوئے کہا کہ کارکنان فوری طور پر ضلع کونسل چوک پہنچیں ، تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام آزادی کیلئے گھروں سے نکلیں۔

