راولپنڈی (ڈیلی گرین گوادر) پولیس اور پنجاب ہیومن ٹراسپلائنٹ اتھارٹی کی نجی ہسپتال میں گردہ نکالنے کی اطلاع پر بروقت کاروائی، 3 ڈاکٹروں سمیت 10 افراد کو گرفتار کرلیا۔ راولپنڈی تھانہ مورگاہ پولیس اور پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے نجی اسپتال پر چھاپہ مارکر گردوں کی غیرقانونی ٹرانسپلانٹیشن میں ملوث 3 ڈاکٹروں سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ چھاپے دوران اسپتال عملہ اور ڈاکٹرز آپریشن ادھورے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
اسپتال میں صبح سے آپریشن جاری تھے جس میں ایک 65 سالہ شخص افتخار جاں بحق ہوگیا۔ ٹرانسپلانٹ کرانے کے دوران جاں بحق مریض کی لاش تاحال نجی اسپتال میں موجود ہے جسے پوسٹ مارٹم کے لئے ڈی ایچ کیو منتقل کیا جائے گا۔گرفتار ڈاکٹروں کی شناخت زاہد، اطہر اور عابد لطیف کے ناموں سے ہوئی، دیگر ملزمان میں اسرار حسین، ارشد محمود، شہزاد، شاہنواز، محمد عمران، عاصم اور انس الرحمان شامل ہیں۔ ملزمان سے 2 کروڑ کے قریب کیش بھی برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ڈاکٹر زاہد گردے نکال کر فروخت کرنے کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے۔ ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرکے ملزمان کو انکے گھناؤنے فعل پر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ اسپتال سے غیر قانونی طورپر گردے ٹرانسپلانٹ کرانے والے چار مریضوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ اسپتال میں دس مریضوں کا غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ زیر علاج صرف ایک مریض کا ٹرانسپلانٹ قانونی منظوری کے بعد کیا گیا۔ غیر قانونی ٹرانسپلانٹ کرانے والوں میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہے، زیر علاج مریضوں کے ٹرانسپلانٹ گزشتہ 9 روز میں کئے گئے، زیر علاج تمام مریضوں کو بی بی ایچ منتقل کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپلانٹ کرانے والے دو مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

