کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی نے دانش سکولزاینڈسینٹرزآف ایکسیلینس اتھارٹی کا مسودہ قانون منظور کرلیاگیا،نقطہ اعتراض پر صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پچھلے 20 سالوں سے بیرونی طاقتوں کی سازشوں کے تحت دہشت گردی ہورہی ہے،عوام کی جان ومال کی حفاظت کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ بلوچستا ن اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسی خیل کی زیر صدارت سو اگھنٹے کی تاخیر سے شروع ہو ا۔صوبائی وزیر تعلیم نصیب اللہ مری نیدانش سکولزاینڈسینٹرزآف ایکسیلینس اتھارٹی کا مسودہ قانون پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر اچکزئی نے ایوان میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال ہرنائی پیش انے والے واقعہ کے بعدآنے والی رپورٹ پر عمل نہیں ہورہا ہے، ہرنائی میں چیک پوسٹوں میں اضافہ کردیا گیا ہے،ہرنائی انے والوں کا شناختی کارڈزچیک کئے جارہے ہیں، ان باتوں پر احتجاج کرنے والے دو افراد کو سولہ ایم اپی او کے تحت مچ جیل بھجوادیا گیا ہے۔وزیر داخلہ بلوچستان ضیالانگو نے کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے صوبے میں امن ہو،بلوچستان میں پچھلے 20 سالوں سے بیرونی طاقتون کی سازشوں کے تحت دہشت گردی ہورہی ہے،زیارت جیسے پرامن علاقے میں دہشتگردی ہوئی،عوام کی جان ومال کی حفاظت کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں حکومت امن و امان قائم نہیں کرسکتی جب ہم ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیموں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ذیادتی ہورہی ہے،ہم نے لوگوں کو ناراض،ناراض کہ کر پہاڑ وں پر بٹھا دیا ااب وہ پہاڑوں پر بیٹھ کر دہشتگردی کر رہے ہیں حکومت کو مجبور کیا جارہا ہے کہ ان عناصر کے خلاف آپریشن کرے۔انہوں نے کہا کہ خاران میں امن امان کے قیام کے لئے لئے آئی جی پولیس سے بات کرونگا کہ وہاں بی سی کی ایک پلاٹون بھیجی جائے۔ بی این پی کی رکن اسمبلی شکیلہ نوید کا ایوان میں نقطہ اعتراض پر ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کل کوئٹہ سے ایک اور خاتون لاپتہ ہیں انہیں فوری بازیاب کرایا جائے، رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے ایوان میں نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے صوبے میں بارہ ہزار اساتذہ کی کمی ہے، تین ہزار اسکول بند پڑے ہیں، ایمرجنسی کا نافذ کرتے ہوئے ایک دو ماہ اساتذہ کی بھرتی کاعمل یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ خاران میں اب بھی بد امنی کے واقعات ہورہے ہیں میں نے خاران میں بی سی کی مزید پلاٹوں تعینات کرنے کامطالبہ کیا تھاتاحال تعینات نہیں کی گئی ہے لہذا خاران میں فوری طور پر بی سی کی پلاٹون تعینات کی جائے۔ بی اے پی کے رکن اسمبلی عارف جان محمد حسنی نے دو اہم شخصیات کا نام لیکر کہا کہ پاک ایران سرحدی علاقے میں سمگلنگ میں ملوث ہیں۔جس کے جواب میں صوبائی وزیر میر ضیاء لانگو نے کہا کہ اس طرح کی ذمہ دار شخصیات کا نام لینے سے قبل وہ قانونی ماہرین سے مشورہ لے لیا کریں۔ بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل 21فروری کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی نے دانش سکولزاینڈسینٹرزآف ایکسیلینس اتھارٹی کا مسودہ قانون منظور کرلیاگیا

ٹیگز:
دانش سکولز
