انتاکیہ (ڈیلی گرین گوادر) ترکیہ اور شام میں آنے والے 7.8 شدت کے قیامت خیز زلزلے سے اموات کی مجموعی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی زلزلے سے تباہ عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔7 اعشاریہ 8 شدت کے زلزلے نے ترکیہ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ ترکیہ میں زلزلے سے جاں بحق کی تعداد 31650 ہو گئی۔ شام میں اموات کی تعداد 5700 سے بڑھ گئی۔ بچ جانے والے افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے باہر اس امید پر کھڑے ہیں کہ شاید ان کے پیارے زندہ نکال لئے جائیں۔
ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے،، لیکن شدید ٹھنڈ کے باعث ریسکیو عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے بعض متاثرہ علاقوں میں پانی کی قلت ہوگئی ہے جبکہ صحت و صفائی کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اس کے علاوہ وبائی امراض بھی پھیلنے لگے، متاثرین کی جانب سے جلد کی بیماریاں اور ڈائریا کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تباہ کن زلزلے سے ترکی کو 84 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
زلزلے سے تباہ حال شام میں صورتحال انتہائی خوفناک ہے جہاں امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابرہیں۔ شام میں رہائشی عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے بےسروسامانی کی حالت میں امداد کے منتظر ہیں۔
زلزلہ متاثرین کیلئے حلب میں 235 پناہ گاہیں کھولی گئی ہیں جہاں بنیادی ضروریات زندگی فراہم کی جارہی ہیں، زخمیوں کا علاج معالجہ بھی کیا جا رہا ہے، چینی میڈیا کے مطابق، شامی زلزلہ متاثرین کو شدید سردی کے باعث، کمبل، گرم خیموں، ایندھن، بچوں اور بڑوں کیلئے دودھ اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی سخت ضرورت ہے۔
شام کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لئے قوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سربراہ انسانی امور نے کہا کہ ہم نے شام کے زلزلہ متاثرین کومایوس کیا، جتنی جلدی ہوسکے شامی عوام کی مدد کی جائے۔اور تمام ملحقہ سرحدیں کھول دی جائیں۔

