اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ سانحہ پشاور کی تحقیقات جاری ہیں، پاکستان الزام تراشی پر یقین نہیں رکھتا۔ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں اُن کا کہنا تھا کہ سانحہ پشاور پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت و ہمدردی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے سانحہ پشاور پر پاکستان سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ انہوں نے سانحہ پشاور کی تحقیقات و تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ دشمن ہے، کسی بھی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ توقع ہے کابل پاکستان سے کیے اپنے وعدے پورے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی برس سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ پڑوسی مشکل میں ہوں تو مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ پاکستان یو این ایچ سی آر، افغان حکام اور دیگر تنظیموں سے مل کر پناہ گزنیوں کی واپسی کے لئے کام کر رہا ہے۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیح تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ روس سمیت تمام ممالک کے ساتھ مثبت بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ توقع ہے کہ روس سے دوطرفہ تعلقات بشمول تجارت کا معاملہ آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری سے کی گئی یقین دہانیوں کو پورا کیا جائے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے ہیں اور سرحدی واقعے پر بھی بات ہوئی۔ پاک ایران وزرائے خارجہ کی ملاقات میں بھی تمام اُمور کا احاطہ کیا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ مملکت حنا ربانی کھر نے جنیوا میں انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی جائزہ رپورٹ پیش کی۔ ای یو اور امریکا کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان نے پُرامن، مستحکم اور مربوط روابط پر مبنی خطے کے قیام کے لئے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ جی 70 چائنہ نیروبی گروپ کے چیئرمین کے حوالے سے پاکستانی موسمیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے کام کر رہا ہے۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے، پاکستان 1969 کی سرحدوں کے مطابق اور القدس شریف بطور دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان جنین میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتا ہے۔پاکستان کی جانب سے قرآن پاک کی توہین کی شدید مذمت کی گئی، کہا گیا کہ پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی شدید دل آزاری پر مبنی اقدامات بند ہونے چاہئیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کو منایا جائے گا۔ خطے کا امن کشمیر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملنا چاہیے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے۔

