اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) سینیٹ اجلاس میں پشاور دھماکے کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پشاور کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
سینیٹر رضا ربانی بولے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیز فائر کا پارلیمنٹ کو نہیں بتایا گیا، مذاکرات ریاست کے بجائے جرگے کے لوگوں کے حوالے کئے گئے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر دہشت گردی کے خلاف نئی پالیسی پر بات کی جائے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہاں وفاق کی زندگی اور موت کا سوال ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو سیاست سے فرصت نہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ کرسی کی جنگ پاکستان کو تباہ کردے گی، بہتر ہے حکومت چھوڑ کر الیکشن کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں، روایتی نالائقی نہیں چلے گی۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ کلیئر افغان پالیسی بننی چاہیئے اور اس کی بنیاد پر کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی بنائی جائے۔ ہماری نالائقی ہے کہ کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی نہیں بن سکی۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے دور میں چار سو ڈرون حملے ہوئے جبکہ عمران خان کے دور میں ایک بھی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ بولے ہم نے آپس میں نہیں دشمن سے لڑنا ہے، آزادی تب ملتی ہے جب پاکستا ن کے لئے بات کی جائے۔

