حب کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاہے کہ بلوچستان میں لوگوں کی امیدیں عدلیہ سے وابستہ ہیں وکلا کی ہڑتال سے عدلیہ ڈیلیور نہیں کریگی تو عام آدمی کا نقصان ہوگا جو دادرسی کیلئے عدلیہ سے رجوع کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیشن کورٹ آمد اور وکلا کی جانب سے دی گئی ٹی پارٹی سے خطاب میں کیااس موقع پرر جسٹرار ہائیکورٹ راشد محمود ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج جمشید خان بھی موجود تھے چیف جسٹس نے کہا کہ قران میں دادرسی کیلئے وکیل کو وسیلہ بیان کیا گیا ہے وکالت اور عدالت لازم و ملزوم ہیں بار اور بنچ کیدرمیان دوستی نہیں باہمی احترام کا رشتہ لازم ہے انہوں نے کہا کہ ذاتی ایشو پر وکلا کو بارپالیٹکس سے اجتناب کرناچاہیے وکلا کو اصول وضع کرناچاہیے عدالتوں میں پیش ہونے سے پہلے کیس اسٹڈی کریں لسبیلہ بار ایسوسی ایشن کے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان نے کہا کہ وکلا کے جائز مطالبات پورا کرنے کیلئے ہرممکن اقدام اٹھائیں گے انہوں نے خطاب میں کہا کہ جوڈیشل کمپلکس اراضی حصول کیلئے ایس ایم بی آرکو لیٹر لکھیں گے انہوں نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ بار پالیٹکس کا حصہ نہیں بنے گی بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی اور فیڈرل حوڈیشل اکیڈمی میں تربیتی ورکشاپ کی سہولت بھی وکلا کو فراہم کرینگے انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں عجیب طرح کے مسائل ہیں بار اور بنچ کے درمیان تعلقات کو ہمیشہ خوشگوار رہی ہیں کچھ ایشوز ہوء ہیں لیکن باہم ملکر ان ایشوز کو حل کیا گیا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے دورمیں گوادر میں ہائیکورٹ سرکٹ بنچ قیام کی کوششیں کیں گوادر میں اگر سرکٹ بنچ ہوتی تو انٹرنیشنل سطح پر اسکی اہمیت ذیادہ ہوتی لیکن مکران ڈویژن کے وکلا کی اکثریت رضا ربانی کے دور میں تربت میں ہائیکورٹ سرکٹ بنچ قیام پر متفق ہوء۔انہوں نے ضلع حب اور لسبیلہ بار کو الگ کرنے سے متعلق تجاویز پر کہا کہ ضلع حب کے کیس کا ابھی فیصلہ آنا باقی ہے وکلا فیصلے کا انتظار کریں اسکے بعد ہم الگ بار کے قیام کے ایشو کودیکھیں گے چیف جسٹس نے کہا کہ تربت سرکٹ بنچ میں اس وقت 100 اپیلیں زیر سماعت ہیں جن میں 65 ڈبل بنچ اور 35 سنگل بنچ کے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تحصیل کی سطح پر ججز تعینات کئے ہیں دالبندین نوکنڈی کی مثالیں ہماری سامنے موجود ہیں عدالتیں تو ہیں لیکن ان علاقوں میں وکلا نہیں ہیں دوسرے شہروں سے وکیل وہاں کی عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں قائداعظم بھی وکیل تھے جنہوں نے پاکستان بنایا چیف جسٹس نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عوام کی نظریں عدلیہ پر لگی ہوء ہیں وکلا کو چاہیے کہ وہ عدالتوں کے بائیکاٹ کی سیاست کوترک کرکے عوام الناس کو ریلیف دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں سچ اور جھوٹ کے درمیان فیصلے کیلئے وکیل کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے وکلا پروفیشلزم ہر توجہ دیں محض ڈگری لینے سے وکیل نہیں بن سکتے بلکہ کسی ماہر قانون دان سے تربیت حاصل کرنا ضروری ہے اہنے کام پر توجہ دیں عزت رتبہ شہرت کامیابی آپکے قدم چومے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں ان تمام مراحل سے گزر کر اس مقام پر پہنچا ہوں لسبیلہ بارایسوسی ایشن کے صدر اقبال جاموٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ لسبیلہ بار کی روایت رہی کہ معززمہمانان اور وکلا کے عزت وقار کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھی لسبیلہ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ تعاون کرتے ہیں لسبیلہ بارایسوسی ایشن کے صدر اقبال جاموٹ نے وکلا کے مسائل اور ایشوز کے حوالے سے چیف جسٹس کو چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کیااور چیف جسٹس کی بار آمد پر تین روز سے جاری عدالتی کاروائیوں کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔چیف جسٹس نے دورہ سیشن کورٹ کے موقع پر ماتحت عدلیہ میں زیر سماعت کیسز کی انسپکشن بھی کی۔
وکلا کے جائز مطالبات پورا کرنے کیلئے ہرممکن اقدام اٹھائیں گے ، جسٹس نعیم اختر افغان

ٹیگز:
جسٹس نعیم اختر افغان
