کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام بدترین مہنگائی اور اشیائے خورد و نوش اور خصوصی طور پر آٹے کی مصنوعی قلت اور ارزاں نرخوں پر آٹے کی عدم دستیابی کے خلاف شدید سردی کے باوجود عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا جو پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے شروع ہوکر مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے باچا خان چوک پر جلسے میں تبدیل ہوا اور جلسے کے بعد دوبارہ مظاہرہ جاری رکھتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب پر اختتام پذیر ہوا ۔مظاہرین نے پارٹی چئیرمین خوشحال خان کاکڑ زندہ باد ،پارٹی شریک چئیرمین مختار خان یوسفزئی زندہ باد،آٹے کی مصنوعی قلت نا منظور نامنظور، بدترین مہنگائی نا منظور نامنظور، آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نا منظور نا منظور، اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نا منظور نامنظور، وفاقی و صوبائی نااہل حکومتیں مردہ باد مردہ باد سمیت فلگ شگاف نعرے لگائے اور مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرے اور احتجاجی جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات محمد عیسیٰ روشان ، مرکزی سیکرٹری حاجی اعظم مسے زئی، صوبائی سیکرٹری خوشحال خان کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز رحمت اللہ صابر، ندا سنگر اورعبدالرزاق خان بڑیچ نے خطاب کرتے ہوئے ملک اور خصوصی طور پر پشتون بلوچ صوبے میں آٹے کی مصنوعی قلت ، ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، بدترین مہنگائی، بیروزگاری اور اشیائے خورد و نوش کی ہوشربا قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ وفاقی اور اس صوبے کے صوبائی حکومت اور اس کے متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت صوبے کے ضروریات کے مطابق گندم کی ارزاں نرخوں پر خریداری کرکے سٹور کر لیتے اور ارزاں نرخوں پر اس دو قومی صوبے کے غریب عوام کو ارزاں نرخوں پر آٹے کی سپلائی جاری رکھتے جبکہ ہماری صوبائی حکومت نے سیزن میں صرف 2 لاکھ گندم کی بوری کی خریداری کی اور ہمارے صوبے کی ضرورت تقریباً 10 لاکھ بوری گندم سے کچھ زائد تھی اور اب آنے والے مہینوں کے لئے 6 لاکھ بوری گندم کی ضرورت ہے جس کے لئے ابھی تک کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے اور اب موجودہ صورتحال اور آٹے کی قلت کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ دار بھی صوبائی حکومت ہےکیونکہ پنجاب کی صوبائی حکومت اپنے کاشتکاروں کی مالی مدد کے لئے گندم کی نرخوں میں اضافہ کرتا رہتا ہے اور اپنے عوام کو آٹا دینے کی صورت میں سبسڈی دیتا ہے ۔اگر ہماری صوبائی حکومت بروقت سیزن میں خریداری کرتے اور غریب عوام کو آٹے کی مد میں سبسڈی دیتے تو یہ سنگین صورتحال مسلط نہ ہوتی اور اسی طرح اشیائے خورد ونوش کی گرانی صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کی ناکامی ثابت کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں کاروبار کرنے والے تمام بینکوں کے حکام بھی قابل گرفت ہے جو گندم کے کاروبار کرنے والے تاجروں کو بروقت قرضے نہیں دیتے اگر بینکوں کے حکام تاجروں کے ساتھ قرضوں کی مد میں تعاون کرتے تو ہمارے تاجر پرائیوٹ طور پر بھی سیزن کے اوقات میں ارزاں نرخوں پر گندم کی خریداری کرتے اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اربوں روپے کے گندم کی بیج خریدنے اور تقسیم کرنے کے دعوں کے باوجود وہ اصل کاشتکاروں کو نہیں ملا بلکہ 50 فیصد سے زائد بیج کے نام پر لوٹ مار اور کرپشن کا ذریعہ بنا اور اب اس شدید سردی کے موسم میں کوئٹہ سمیت تمام علاقوں میں گیس اور بجلی کی سہولت موجود نہیں ۔کوئٹہ،کچلاک ،پشین، زیارت ،مستونگ اور قلات میں گیس کی مسلسل عدم فراہمی اور پریشرکی کمی کی صورتحال نے غریب عوام کو اذیت ناک صورتحال میں مبتلا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 سے دھاندلی کے ذریعے مسلط حکومتوں نے زندگی کے ہر شعبے کو تنزلی کا شکار کرکے غریب عوام پر ہر قسم کے روزگار کے دروازے بند کردئیے اور بدترین مہنگائی مسلط کردی۔جبکہ پی ڈی ایم کی حکومت بھی ناکامی سے دوچار ہوکر عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا اور زندگی کے انتہائی بنیادی ضرورتوں کی مد میں بھی عوام کو ریلیف اور سبسبڈی نہیں دے سکتے اور ان کی بنیادی وجہ آمر حکمرانوں اور ان کے کاسہ لیسوں کی ہمیشہ عوام کے حقیقی حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنے اور اپنے نام نہاد ایجنٹوں کو دھاندلی کے ذریعے عوام پر مسلط کرنا ہے۔جن کا عوام دوست پالیسیوں اور عوام دوست اقدامات سے کبھی بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ وہ ذاتی و گروہی مفادات کے حصول میں ہی سرگرداں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ایف بی آر اور کسٹم حکام کی جانب سے نئے ٹیکسسز اور تاجروں کے دکانوں اور گوداموں پر غیر قانونی چھاپے اور دکانوں کو سیل کرنے کے عوام دشمن اقدامات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ۔بدترین بیروزگاری ،بدترین مہنگائی اور گزشتہ سال کے طوفانی بارشوں اور سیلابوں اور اس کے باعث ہونے والے نقصانوں اور زراعت کی بربادی کی وجہ سے ہمارے صوبے کے غریب عوام کی مکمل اکثریت کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے جبکہ ایف بی آر اور کسٹم حکام ٹیکسسز اور سمگلنگ کے نام پر لوٹ مار جاری رکھ کر ہمارے تاجروں اور ہمارے عوام کا مسلسل استحصال کرتے رہے ہیں جبکہ چمن میں ڈیورنڈ لائن پر کاروبار کی بندش درحقیقت ہمارے عوام کے خلاف شعوری اور منصوبہ بند سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کے کاروبار پر بندش کا مقصد درحقیقت ایف سی اور دوسرے حکومتی اداروں کی بھتہ خوری کو یقینی بنانا ہے حالانکہ ملکی پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کے بعد ایرانی پیڑول اور ڈیزل غریب عوام کے لئے ریلیف سے کم نہیں جس طرح ایف سی کسٹم حکام گاڈیوں اور دوسرے سامانوں کے سمگلنگ اور رشوت خوری میں سرعام ملوث ہے اسی طرح ایف سی سمیت مختلف سرکاری ادارے ایرانی پیٹرول و ڈیزل کے کاروبار میں سرعام ملوث ہے اور ایسے اداروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غریب ریڑھی بانوں ، تھڑے پر مزدوری کرنے والوں ، زرنج و چنگ چی رکشے چلانے والے سمیت غریب عوام کے ساتھ پولیس کا ہتک آمیز اور رشوت خوری پر مبنی طرز عمل اور رویہ قابل مذمت اور قابل گرفت ہے ۔پولیس کے اعلیٰ حکام اپنے فورس کے ہر شعبے میں ایسے عوام دشمن آفیسروں اور اہلکاروں کو لگام دیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ یونیورسٹی کی مالی بحران اور ان کے اساتذہ و ملازمین کی بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی درحقیقت صوبے کے اس تاریخی علمی درس گاہ کو ناکامی سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ کوئٹہ یونیورسٹی کے مالی بحران کے خاتمے کے لئے فنڈ کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے فوری اقدام کرے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کالجز کے پروفیسروں اور لیکچررز کی بلاجواز اور انتقامی بنیادوں کی بنیاد پر ہونے والے تبادلے قابل مذمت ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغان کڈوال عوام کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی انسانیت دشمنی پر مبنی رویہ اور طرز عمل قابل برداشت نہیں حالانکہ افغان کڈوال عوام کو اپنے ملک کے بدترین حالات کے باعث بین الاقوامی اصولوں کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں دوسرے ممالک میں مہاجر بن کر آرام سے زندگی گزارے لیکن ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادار ے بین الاقوامی اصول اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے افغان کڈوال عوام کو تنگ کرنے ، ان سے رشوت بٹورنے ان کے خواتین ،معصوم بچوں ،بوڑھوں سمیت تمام گھرانوں کو اٹھا کر تھانوں اور جیلوں میں بند کردیتے ہیں اور انہیں بلاجواز غیر قانونی طور پر سزا دے کر واپس ڈی پورٹ کرتے ہیں۔ہمارے غیور عوام کے لئے افغان کڈوال عوام کے ساتھ انسانیت دشمنی پر مبنی رویہ مزید قابل برداشت نہیں اور بالخصوص صوبہ سندھ کی حکومت اور متعلقہ ادارے مسلسل اس افغان دشمنی کے عمل میں ملوث ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام بدترین مہنگائی ،آٹے کی عدم دستیابی کیخلاف احتجاجی ریلی و مظاہرہ

ٹیگز:
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
