کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)اپوزیشن لیڈر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ قدوس حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ظاہری طور پر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اب اپنی مدد پوری کریگی پارٹیاں بدلنے والے سیاسی لیڈران کا کوئی مستقبل نہیں کبھی ادھر تو کبھی ادھر رہنے والے کسی بھی ایک پارٹی میں ٹکتے نہیں ہیں باپ پارٹی کو بنانے والوں کو اب شاہد باپ کی ضرورت نہیں ہے اب دیکھتے ہیں کہ ان کو واپس کس کی ضرورت ہوتی ہے صادق سنجرانی اور قدوس بزنجو کی جانب سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا ہے ویسے جمعیت کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں،جام کمال نے پرانے دور والی حکمرانی کی جو والی و نواب کہتے تھے کہ روزی بھی میں دوں گا چھینوں گا بھی میں اس طرز پر انہوں نے ساڑھے تین سال حکمرانی کی، عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہونگے حکومت بلوچستان معاشی بحران سے نکلنے کیلئے سرتوڑ کوشش کررہی ہے این ایف سی ایوارڈ اور ریکوڈیک کا حصہ جلد مل جائے گا گوادر سمیت پورا بلوچستان پسماندہ ہے گوادر دھرنے کے قائدین سے حکومت نے کئی بار مذاکرات کیئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ مدنیہ مدرسہ اوتھل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے بلوچستان میں 75 سالوں سے باہر کی ہوا کچھ اور ہوتی ہے اور اندر کا قرب کچھ اور ہوتا ہے بلوچستان میں باہر سردی ہوتی ہے لیکن حالات کے مارے بلوچستانی عوام کو اپنی ہی پریشانیوں و مشکلات میں سردی محسوس نہیں ہوتی،جمعیت علمائے اسلام جب سے بنی ہے تب سے ایک ہی نقطے پر کام کررہی ہے اب الحمدللہ ہماری جماعت نے ملک پاکستان کی عوام کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا ہے اس سمت جدوجہد ہو تو ہمارے ملک دنیا کا طاقت ور ملک بنے گا اور اسلامی دنیا کی قیادت کرے گا،لیکن پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو اصل مقصد سے روکنے کیلئے مختلف حربے استعمال ہوتے رہیں گے جس طرح 75 سالوں سے ہوتے رہے ہیں تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ملک میں بد اعتمادی کی فضا ہوگی گنڈا گردی کی فضا ہوگی یہاں کرپشن کا بازار گرم ہوگا ظلم و زیادتی ہوگی کیونکہ جس طریقے کے تحت پاکستان کو لے جانا چاہیے اس طریقے سے لیجایا ہی نہیں جارہا ہے اس کے اثر سے ملک میں ہمیشہ کرب و اذیت رہے گی جیسے اب چل رہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کی جانب جارہا ہے ہم کافی مقروض بھی ہوچکے ہیں مہنگائی اتنی ہے کہ غریب عوام آٹا تک خرید نہیں سکتے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اس راستے سے ہٹ گئے ہیں جس راستے پر چلنے کیلئے پاکستان بنا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں حکمرانی کرنے والے اور باہر کی قوتوں کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اسلام طرزعمل اختیار کرنے سے روکا جائے اور لوگوں کو اسلام سے دور رکھا جائے یہ انکی خامخیالی ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں جو اہنے عقائد سے دور کرسکیں گے بلکہ جو اس طرح جرنے والے ہیں و نیست و بابوت ہوں گے اور انشا اللہ یہاں پر جو اسلامی فکر ہے وہ پورے پاکستان میں چھا جائے گا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لسبیلہ کے نواب سابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے اپنی حکومتی ٹائم میں بلوچستان و پاکستان کے قبائلی رسومات نہیں اپنائے،جام کمال نے پرانے دور والی حکمرانی کی جو والی و نواب کہتے تھے کہ روزی بھی میں دوں گا چھینوں گا بھی میں اس طرز پر انہوں نے حکمرانی کی ہم نے اپوزیشن میں رہ کر انکی حکومت ہر تنقید بھی کی اور جیلوں تھانوں میں بھی گئے،انہوں نے کہا کہ جام کمال کو اپنی حکومت میں بلوچستان کے قبائل خیال کرنا چاہیئے تھا لیکن انہوں نے اپوزیشن کو ساڑھے تین سال سزا اس لیئے دی گئی کہ اپوزیشن اسمبلی میں غلط کو غلط کہتی اور صحیح کام کی طرف نشاندہی کرتی تھی لیکن یہ تنقید موصوف کو ہضم نہیں ہورہی تھی اور بالاآخر ہماری تگ دو سے قدوس بزنجو کی حکومت بنی اسکا فائدہ یہ ہوا کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کی عوام پر خرچ ہورہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نظریاتی لوگ دینا کے تمام مفادات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر وہ اپنے نظریات سے جڑے ہوتے ہیں،اور یہ بلوچستان میں آگے پیچھے تبدیلی آرہی ہے یہ وقتی حالات کی تبدیلی ہے وہ لوگ پارٹیاں بدلتے ہیں جو چڑھتے سورج کے بجاری ہوتے ہیں،باپ پارٹی کو بنانے والوں کو اب باپ کی ضرورت نہیں رہی ہے،انہوں نے بیلہ سانحہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دلخراش واقعہ تھا حکومت کو چاہیے کہ جو لوگ حادثے میں شہید ہوئے ہیں انکو معاوضہ فراہم کریں یہ سرکار کی ذمہ داری ہے،جمعیت علمائے اسلام اس مسلے پر صف اول پر ہوگی۔
قدوس بزنجو حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،ملک سکندر ایڈووکیٹ

ٹیگز:
ملک سکندر ایڈووکیٹ
