کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)، جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل سیشن جج پنجگور اسد اللہ رئیسانی کے کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے لاپتا ہونے کے واقعے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ
سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج اسد اللہ رئیسانی کا دورانِ سفر لاپتا ہونا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے۔ ایک جج کا اس طرح لاپتا ہونا نہ صرف عدلیہ بلکہ پورے نظامِ قانون و انصاف کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں اور بالخصوص عدلیہ سے وابستہ افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے، ایسے واقعات سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ رہا ہے۔
مرکزی صدر جمعیت وکلاء فورم پاکستان نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایڈیشنل سیشن جج پنجگور اسد اللہ رئیسانی کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں اور واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک عدالتی افسر بھی محفوظ نہیں تو عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے عوام کے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ واقعے کو سنجیدگی سے لے اور اسد اللہ رئیسانی کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور ججز کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کسی بھی جج یا عدالتی افسر کو دھمکانا، ہراساں کرنا یا لاپتا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسد اللہ رئیسانی کی فوری بازیابی کے ساتھ ساتھ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔جمعیت وکلاء فورم پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ عدلیہ کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور وکلاء و ججز کے حقوق کے لیے ہر آئینی و قانونی فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

