برے وقت میں ایک بار پھر عمران خان کو اپنا پرانا ساتھی یاد آگیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جہانگیر ترین کو منانے کے لئے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ لیکن فی الحال برف نہیں پگھل سکی ہے اور یہ کہ تعلقات کی بحالی کے لئے پی ٹی آئی کے سابق رہنما نے ایسی کڑی شرائط رکھی ہیں۔ جنہیں پورا کرنے پر عمران خان کبھی آمادہ نہیں ہوں گے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ عمران خان نے گردش ایام سے گھبراکر اپنے ناراض ساتھی کو پکارا ہو۔ پچھلے برس فروری میں جب ترین گروپ کے ساتھ اس وقت کی اپوزیشن کے رابطے مضبوط ہورہے تھے تو تب بھی مزاج پرسی کے بہانے عمران خان نے ناراض ساتھی کو کال کی تھی۔ اصل مقصد جہانگیر ترین کو ’’دشمنوں‘‘ (اپوزیشن) کے ساتھ جا ملنے سے روکنا تھا۔ لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی تھی۔ اب ایک بار پھر قریباً ایک برس کے وقفے سے عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے۔
عمران خان کو برے وقت میں پرانا ساتھی یاد آگیا جہانگیر ترین کو منانے کے لئے ٹیلی فونک رابطہ

