کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان بار کونسل کے ممبر منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ ہائی کورٹ میں کیسز نمٹانااعداد وشمار کی حد تک ٹھیک ہے لیکن یہ بھی دیکھنا چاہے کہ کیا اس میں لوگوں کو انصاف ملاہے؟ ہماری جوڈیشری عالمی رینک میں کرپشن پر تیسری اور انصاف کی فراہمی میں 128ویں نمبر پر ہے کیا ان نمبرز میں بہتری کیلئے کوششیں کی گئی ہے،اگردو افراد کے درمیان کرایہ کے مسئلے کو نمٹانا ایک مقدمہ نمٹانے کے مترادف ہے تو حصول انصاف کیلئے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ سوشل جسٹس کے تحت یہاں کے افراد کو سماجی وانسانی حقوق کی فراہمی ہی انصاف کا حصول ہے صرف کیسز نمٹانا تو انصاف کا حصول نہیں اس سے قبل توجرگہ نظام بہتر طریقے سے کیسز حل کراتے تھے اور لوگوں کو انصاف ملتا تھا ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے گزشتہ سال کے نمٹائے گئے کیسز سے متعلق جاری کردہ پریس ریلیز پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ منیراحمدکاکڑ نے کہاکہ ہائی کورٹ کے پریس ریلیز میں کہاگیاہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے سال 2022 میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے عدالت عالیہ بلوچستان میں سال 2022 کے شروع میں زیر التوا مقدمات 4108تھے سال 2022 کے دوران 6988 مقدمات دائر ہوئیجبکہ 31 دسمبر2022 تک 6624 مقدمات کا فیصلہ کیا گیاانہوں نے کہاکہ کیسز نمٹانا نمبرز کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن کیا اس میں صرف کیسز کانمٹاناشامل ہے یا پھر لوگوں کوانصاف بھی ملاہے اگردو افراد کے درمیان کرایہ کے مسئلے کو نمٹانا ایک مقدمہ نمٹانے کے مترادف ہے تو حصول انصاف کیلئے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ سوشل جسٹس کے تحت یہاں کے افراد کو سماجی وانسانی حقوق کی فراہمی ہی انصاف کا حصول ہے انہوں نے سوال اٹھایاکہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر کوئی ایکشن لیاگیاہے؟لا اینڈ آرڈر کے مسئلے جس میں روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں ماورائے عدالت قتل کئے جاتے ہیں اس پر نظر دوڑائی گئی ہے؟،ہائی کورٹ کے تشکیل کردہ کمیشنز کے رپورٹ پر عوام مطمئن ہوئے ہیں؟صرف کیسز نمٹانا تو انصاف کا حصول نہیں اس سے قبل توجرگہ نظام بہتر طریقے سے کیسز حل کراتے تھے اور لوگوں کو انصاف ملتا تھا انہوں نے کہاکہ عالمی رینکنگ میں ہماری عدلیہ کرپشن کے حوالے سے تیسری جبکہ انصاف کی فراہمی میں 128ویں نمبر پر ہے کیا ان نمبرز یا اعداد وشمار میں بہتری کیلئے بھی کوششیں کی گئی ہے تاکہ عوام کا اپنے عدلیہ پر اعتماد بحال ہوں۔
کیسز نمٹانا انصاف کا حصول نہیں ورنہ جرگہ نظام بہترکیسز حل کراتے تھے ، منیراحمدکاکڑ

ٹیگز:
منیراحمدکاکڑ
