کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقی کیلئے ضروری ہے کہ مزید ڈویڑنز بنائے جائیں۔ صوبے کے تین بڑے ایریا پر محیط رخشان۔قلات اور مکران ڈویڑنز کو 6 ڈویڑنز میں تقسیم کیا جائے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے پر سوموٹو ایکشن لیں اور صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کریں کہ وہ ان تین ڈویڑنز کو 6 ڈویڑنز میں تقسیم کرے۔ الیکشن سے قبل اگر ان تین ڈویڑنز کو تقسیم نہ کیا گیا تو میں عوام کا یہ مقدمہ لیکر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کروں گا۔ یہ بات انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ رخشان ڈویڑن سینکڑوں کلومیٹر پر محیط ہے اس ڈویڑن میں چاغی، نوشکی، بیسمہ، تفتان بارڈر تک کا ایریا آتا ہے اسی طرح مکران ڈویڑن میں جیونی، مند، تمپ، بلیدہ، تربت وغیرہ آتے ہیں جو کہ ہزاروں کلومیٹر پر محیط ہے یہی صورتحال قلات خضدار ڈویڑن کی ہے جو کہ آواران، حب سے لے کر کھڈ کوچہ تک ایریا پر ہے ان ڈویڑنز میں آبادی بھی لاکھوں میں ہے ان تینوں ڈویڑنز کو 50فیصد کٹ لگا کر 6 ڈویڑنز میں تقسیم کیا جائے۔ یہ عوامی مفاد عامہ میں ہے انہوں نے مزید کہا کہ اتنے بڑے ایریا اور آبادی پر محیط ان ڈویڑنوں سے ترقی ممکن نہیں لہذا صوبائی حکومت عوام پر رحم کھائے اور اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے۔ میری بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ عوامی مفاد عامہ میں وہ اس صورتحال کا سوموٹو نوٹس لیں اور الیکشن سے قبل صوبائی حکومت کو یہ ہدایت جاری کریں کہ وہ ان تین ڈویڑنوں کو 6ڈویڑنز میں تقسیم کرے انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل صوبائی حکومت نے یہ اقدام نہ اٹھایا تو سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
بلوچستان میں ترقی کیلئے ضروری ہے کہ مزید ڈویڑنز بنائے جائیں،میرعبدالکریم نوشیروانی

ٹیگز:
میرعبدالکریم نوشیروانی
