کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) مرکزی انجمن تاجران و دکاندارن بلو چستان کے رہنماء ٹکری حمیدبنگلزئی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کی سڑکوں کو تو سیع کے نام پرکوتوڑ تو دیاگیا لیکن اب سڑ کیں تعمیر و تر قی کے نام پر کھنڈ رات میں تبدیل کر دی گئی ہیں، ہم تر قیا تی کاموں کے خلاف نہیں لیکن تاجراور مزدور بیروز گاری کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجور ہو گئے ہیں، ہمیں مجبو ر کیا جا رہا ہے کہ ہم عدالت کے دروازے کھٹکھٹائیں ہمارا مطالبہ ہے کہ سر یاب روڈکی تو سیع کا کام جلد از جلد شروع کیا جائے۔ یہ با ت انہوں نے منگل کو میر بشیر احمد بنگلزئی، حاجی امیر محمد اچکزئی، حاجی نصیب اللہ کرد، حا جی راشد انور محمد حسنی، حاجی دوست محمد بنگلزئی، میر محمد اکرم محمد شہی، حمت خان بگٹی، سعید ساتکزئی، محمد حسین، فیض جان، لال خان مری کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر کی تمام سڑ کیں توڑ دی گئیں ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ ٹو ٹی ہوئی سڑکوں کی تعمیر و تر قی کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دے رہا،سر یاب روڈ، سبزل روڈ، قمبرانی روڈ، اسپینی روڈ، سرکی روڈ، رئیسانی روڈ، منیر احمدروڈ، لنک بادینی روڈ، شاہوانی ایوانیو روڈ، ہزار گنجی، مشرقی اور مغر بی بائی پاس کی سڑ کیں تعمیر و تر قی کے نام پر کھنڈرات میں تبدیل کر دی گئی ہیں جس کی وجہ سے تاجر برادری اور عوام کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر کی سڑکوں کی تو سیع کے نام پرعوام کی اربوں روپے کی جائیدار کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے زمین کا معاوضہ نہ ہو نے کے برابر ہے ٹھیکیداروں اور انجینئرز کی غنڈہ گر دی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم تر قیا تی کاموں کے خلاف نہیں لیکن تاجراور مزدور بیروز گاری کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجور ہو گئے ہیں، ہمیں مجبو ر کیا جا رہا ہے کہ ہم عدالت کے دروازے کھٹکھٹائیں۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا کام مکمل ہو نے کے نام ہی نہیں لے رہا جان بوجھ کر سر یا ب روڈ کے عوام اور تاجروں کو تنگ کیا جا رہا ہے خدارا ہ اب عوام پر رحکم کھا کر انہیں بیروز گاری کی وجہ سے خود کشی پر مجبور نہیں کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سڑ کوں کی توسیع کے کام شروع ہو نے سے ہم میں خوشی محسوس ہوئی تھی کہ تر قی منصوبوں سے شہر تر قی کی جانب گامزن ہوگا لیکن یہاں ترقی کے بجائے مزید تباہی مچادی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سر یاب روڈ کی تو سیع کا کام جلد از جلد شروع کیا جائے اور ہمیں آفیشل نوٹس دیا جائے جس میں ہمیں 7سے 14دن تک وقت دیا جائے جس کے دوران ہمیں نشاندہی کے لئے تحصیلدار، پٹواری، قانوں گو، اے سی سر یاب و دیگر کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ توڑ پھوڑ سے پہلے مالکان کو لیگل توڑنے کا سر ٹیفکیٹ فراہم کیا جائے تاکہ ہمارے پاس کل کو بطور ثبوت بھی تو ہو کہ ہماری جائیداد کے ملبے و غیر ٹھیکیدار نے توڑ دئے ہیں، اصل ٹھیکیدار کے نام اور ٹھیکیدار کی کمپنی کا نام ظاہر کیا جائے تاکہ چور ٹھیکیداروں سے ہم لوگ اپنا دفاع کر سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یو ٹرن ایریا کی نشاندہی اور لینڈ ایکو زیشن 1894ء کے رولز کے تحت اگر کسی اراضی کو مفا دعا مہ کے لئے حاصل کرے تو اس زمین کے بدلے سر کار مالک کو رقم ادا کرے گی یا متبادل جگہ فراہم کریگی لیکن ابھی تک نہ ہمیں متبادل جگہ فراہم کی گئی اور نہ ہی ریوارڈ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو ہم مجبوراً شٹر ڈاؤ ن پہیہ جام ہڑ تال پر مجبور ہوں گے۔
کوئٹہ شہرکی سڑکوں کو تعمیرو ترقی کے نام پر کھنڈ رات میں تبدیل کر دی گئی ہیں، ٹکری حمید بنگلزئی

ٹیگز:
ٹکری حمید بنگلزئی
