کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس ملک شہزاد کے عدالت کی جانب سے پنجاب بار کونسل کے معزز ممبر رانا محمد آصف کو توہین عدالت سزا دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج کی جانب سے بغیر کسی نوٹس کے توہین عدالت سزا سنانا قابل مذمت ہے۔بیان میں کہا کہ بلوچستان بار کونسل ممبر پنجاب رانا محمد آصف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔بیان میں کہا کہ جوڈیشری اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو توہین عدالت سزا سے بحال کرانا چاہتا ہے جوڈیشری کے اندر کرپشن اقرباء پروری من پسند لوگوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے عدالتی نظام سے عوام کا وکلاء کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے ججز کا وکلاء اور عوام کے ساتھ ان کا رویہ ناقابل برداشت ہے جس کی وجہ سے آئے روز ملک بھر میں عدالتوں میں ججز اور وکلاء کے درمیان آئے روز جھگڑا فساد رہتا ہے۔بیان میں کہا کہ جوڈیشری اپنے گرتی ہوئی ساکھ جو کرپشن اقرباء پروری اور من پسند افراد کو نوازنے کی وجہ سے کھو چکا ہے ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں کیسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جو سالوں سال چلتے ہیں بروقت فیصلہ نہیں ہوتے اب جویشری اپنی نااہلی اور ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں میں اتر آئی ہے بلوچستان بار کونسل پنجاب بار کونسل کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تمام جدوجہد میں شانہ بشانہ ہوگا بیان میں کہا کہ 15 دسمبر کو آل پاکستان بین الصوبائی وکلاء کانفرنس پشاور میں منعقدہ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا سنگ میل ثابت ہوگا۔
جوڈیشری اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو توہین عدالت سزا سے بحال کرانا چاہتا ہے، بلوچستان بار کونسل

ٹیگز:
بلوچستان بار کونسل
