کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں عبدالرحیم زیارتوال، نواب ایازخان جوگیزئی،عبدالرؤف لالا اور عبدالقہار خان ودان نے کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے اپنی زندگی کا نصف حصہ قید وبند کی صعوبتوں میں گزارا،پشتون قوم کو فرنگی استعمارسے نجات اور ملک بننے کے بعد پشتونوں کی قومی وحدت، قومی تشخص،ان کے وسائل پر واک اختیار دلانے،ون مین ون ووٹ کے حصول، ملک کو آئین دینے، خودمختیار پارلیمنٹ دینے،جمہور کی حکمرانی، سماجی عدل وانصاف کی فراہمی، عدلیہ اور صحافت کی آزادی کیلئے اپنی شہادت تک مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ خان شہید کے مشن کو پائے تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں نظم وضبط اتحاد واتفاق کو مضبوط بنانا ہوگا اور پارٹی پروگرام کو گھر گھر تک عوام کو پہنچانا ہوگا۔ ملک میں پشتونوں کے ساتھ جاری امتیاری سلوک قابل افسوس اور ناقابل برداشت ہے، قدرتی نعمتوں سے مالا مال سرزمین ہونے کو باوجود آج بھی ہمارے کو عوام مسافرانہ اور درپدری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال،مرکزی سیکرٹری عبدالرؤف لالا، حبیب الرحمن بازئی، اکرم خان خلجی، علاقائی سیکرٹری راحت خان بازئی، علاقائی سیکرٹری کوٹوال عبدالخالق کاکڑ، طاہر جانسن، نے نواں کلی میں اولسی جرگے اور پارٹی کے علاقائی یونٹ کے نومنتخب ایگزیکٹوز کے تقریب حلف وفاداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پارٹی کے رہنماؤں حبیب الرحمن بازئی، اعظم خان، حاجی ولی، احساس، نور بیدار، طاہر جانسن اور حاجی اسلام ترہ کئی بھی موجود تھے۔ مقررین نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بجاء طور پر یہ امید کرتی ہے کہ اراکین پارٹی کی دی گئی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین محتر محمود خان اچکزئی کی قیاد ت میں جاری قومی سیاسی جمہوری جدوجہد اور قومی اہداف کے حصول کی تکمیل کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائینگے۔ جبکہ پشتون باغ دوئم علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام حاجی محمد گل مرحوم کی رہائش گاہ پر اولسی جرگے سے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، علاقائی سیکرٹری نعیم پیر علیزئی اور حاجی فضل کریم بادیزئی نے خطاب کیا۔ پشتون آباد علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام مشترکہ ابتدائی یونٹوں کے اجلاس سے عبدالرحیم زیارتوال، سندھ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نعمت کاکڑ، جبار ہمدرد، غلام اولسیار، ڈاکٹر حبیب اللہ کاکڑ، حاجی طاہر، اختر محمد نورزئی ابراہیم خان نے خطاب کیا۔صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، حبیب آکا، ولی جان اچکزئی، ادریس خان نے پشتون باغ اول علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام اولسی جرگے اور نئی ابتدائی یونٹوں صاحب خان شہید، غازی امان اللہ خان، ازل خان یونٹ، خان شہید باز محمد ٹاؤن یونٹ کے حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شیخان علاقائی یونٹ کے زیراہتمام اولسی جرگے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی، نظام عسکر، نیاز بڑیچ ویگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی قومی برابری، سیالی،اپنے وسائل پر واک اختیار حاصل کرنے اور قومی اہداف کی حصول کی راہ میں مخالفین اس وقت ہمارے غریب لاچار عوام کے شکار بنانے،بے بنیادو سوسومیں ڈالنے کی تگ ودو جاری ہیں جسے ناکام بنانا عوام کی ذمہ داری ہے، پارٹی نے ایک بڑے عرصے تک ان ساتھیوں کی اصلاح اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی مکمل کوشش کی لیکن بدقسمتی سے ان کی اصلاح نہ ہوسکی اور آج وہ ساتھی ہمارے پارٹی کا حصہ نہیں رہے اور پشتنی روایات،اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب اس پر مزید بات کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کی بنیاد خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے رکھی اور یہ وہ وقت تھا کہ آج جو جماعتیں ہیں أ س وقت ان جماعتوں کا کوئی وجود نہ تھا، خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے فرنگی استعمار کیخلاف آزاد ی کا علم بلند کیااور نتیجتاً فرنگی کومجبوراً اس سرزمین سے جانا پڑا۔ لیکن فرنگی کے جانے کے بعدہماری سرزمین آج بھی مختلف حصوں میں تقسیم ہے، اس منقسم سرزمین بشمول اٹک میانوالی کو متحد کرکے اس پر پشتونوں کی قومی وحدت، قومی صوبے کا اعلان کیا جائے اور یہ مطالبہ ہمارے پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔ اسی طرح ہر قوم کو یہ حق خدا نے دیا ہے کہ ہر قوم کو اپنی سرزمین کے وسائل پر اختیار کا حق حاصل ہے اور یہ حق اقوام متحدہ، انسانیت کے قوانین بھی دیتی ہے ہم بحیثیت پشتون قوم اپنی سرزمین اور اس پرقدرت کی جانب سے عطاء کئے گئے نعمتوں معدینات،وسائل پر واک اختیار چاہتے ہیں جوہمارا حق ہے اور ان نعمتوں کو اپنی قوم کی ترقی، آبادی اور خوشحالی کیلئے بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غیروں کی سیاست کو ترک کرتے ہوئے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صفوں میں شامل ہوکر درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات کی تحریک کو تقویت بخشے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پرافتخار تاریخ اور اس کے نامور شخصیات پر فخر کرتے ہیں لیکن آج میروائس نیکہ، احمد شاہ ابدالی بابا جیسے بہادر شخصیات دوبار زندہ نہیں ہونگے انہوں نے جو کیا اس قوم کیلئے وہ ناقابل بیان ہے لیکن ان کے بچوں کی حیثیت سے ہم پر آج بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے کہ ہم ان ملی ذمہ داریوں کی فرائض دہی میں کسی بھی قسم کی غفلت اور کوتاہی نہ کریں۔ ہم کسی فرد یا جماعت کو برا نہیں کہتے ہیں لیکن یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں ان کے ارادوں ان کی جماعت کے منشور میں پشتونوں کیلئے کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کو فرنگی استعمار نے قبضہ کرکے اسے تقسیم کیا اور برٹش افغانستان کی بجائے پشتونخوا وطن کے اس حصے کو برٹش بلوچستان کے غیر فطری نام سے پکارا گیا، ملک بننے کے بعد بھی پشتونخوا وطن کی تقسیم کو اسی طرح برقرار رکھا گیا آج جو صورتحال پشتون بلوچ دو قومی صوبے کی صورت میں ہم پر مسلط ہے اس کی ذمہ دار وہ جماعتیں ہیں جو پشتونوں کی قومی برابری، سیالی کی بات نہیں کرتے اور ماضی کی طرح آج بھی پشتون وزیر اعلیٰ کی بجائے بلوچ وزیر اعلیٰ کے بننے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن پشتونخواملی عوامی پارٹی یہ کہتی ہے کہ پشتون اس صوبہ میں برابر اور سیال قوم ہے اور پشتونوں کے اپنے قومی وحدت، صوبہ بننے تک اس دوقومی صوبے کے ہر شعبہ زندگی میں برابر کی حیثیت کو تسلیم کرنا ہوگا اگر چہ وزیر اعلیٰ بلوچ تو گورنر پشتون اور اگر گورنر بلوچ تو وزیر اعلیٰ پشتون ہوگا۔ ہم منقسم سرزمین پر اپنا مشتمل صوبہ چاہتے ہیں جو پشتونخوا، افغانیہ یا پشتونستان کے نام سے منسوب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے گیس،قدرتی وسائل کو لوٹنے، ان کی معاشی نسل کشی کرنے، ان پر ہر قسم کے روزگار کے دروازے بند کرنے، بجٹ، ترقیاتی اسکیمات سے محروم رکھنے، ترقی وخوشحالی کی بجائے ان پر جہالت اور تاریکی مسلط کی جارہی ہے لیکن کسی بھی جماعت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں جبکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی یہ کہتی ہے کہ ہم کسی کی سرزمین اور ان کے وسائل کے دعویدار نہیں لیکن اپنی سرزمین اور اس کے وسائل پر کسی کی قبضہ گیری کو تسلیم نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک طویل اور ناختم ہونیوالی جنگ مسلط کرکے اسے کھنڈارت میں تبدیل کیا گیاوہاں کے لاکھوں عوام کو مسافری اور بھوک وافلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان کے حکمران لویا جرگہ بلا کر افغانستان کی آزادی، استقلال، خودمختیاری اور ارضی تمامیت کیلئے مل بیٹھ کر فیصلے کریں اور ایک اقتدار کیلئے قانونی اثاثے کے ذریعے ایسا میکنزم تیار کرے کہ اس میں کوئی بھی بزور طاقت اقتدار حاصل نہ کرسکے۔ جبکہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے اراکین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان میں ہمسایہ ممالک کی مستقل بنیادوں پر مداخلت کا خاتمہ کرتے ہوئے افغانستان کی ترقی، خوشحالی، امن کے قیام اور بہتر مستقبل کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2دسمبر کا جلسہ عام سنگ میل ثابت ہوگا۔ تمام وطن دوست، قوم دوست، جمہوریت پسند عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس تاریخی اور عظیم الشان جلسہ عام میں بھرپور شرکت کرے اور پشتونخوامیپ کے کارکن شب وروز محنت کرتے ہوئے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کی 49ویں برسی کے موقع پرمنعقد ہونیوالے جلسہ عام کی کامیابی کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
ہم منقسم سرزمین پر اپنا مشتمل صوبہ چاہتے ہیں، عبدالرحیم زیارتوال

ٹیگز:
عبدالرحیم زیارتوال
