کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بی پی ایل اے الیکشن2022ء کے سلسلے میں کوئٹہ کے مختلف گرلز و بوائز کالجز میں پروفیسرز و لیکچررز سے بات چیت کرتے ہوئے بی پی ایل اے پروگریسیو کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد کا محور اور مرکز کالج اساتذہ کا وقار اور سربلندی ہے، چار سالہ بی ایس پروگرام سمیت تعلیمی شعبے سے متعلق جتنے بھی امور ہیں ان میں پروفیسرز کی آراء اور تجاویز شامل حال ہونی چاہئیں، عجلت میں کئے گئے فیصلے فائدہ کی بجائے نقصانات کا باعث بنتے ہیں، وفاق اورباقی صوبوں کے طرز پر بلوچستان کے کالج اساتذہ بھی مراعات اورسہولیات کے حقدار ہیں بطور ایسوسی ایشن بی پی ایل اے نے پچھلے دو سال کے دوران کالج اساتذہ کے بہت سے حقوق سرنڈر کردیئے یہ تشویشناک ہے اورایسا نہیں ہونا چاہئے تھا، مدمقابل پینل جس بھی فورم پرچاہے ہم مناظرے اورمکالمے کے لئے تیار ہیں لیکن ووٹ کے حصول کے لئے برادری کے اندر نفرتوں کو بڑھاوا دینا،ذاتی حملے، کردارکشی کی کوششیں باعث تشویش ہیں، چوبیس نومبر فیصلے کا دن ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھرکے مرد اور خواتین پروفیسرز اپنے مستقبل کافیصلہ کریں گے کہ انہیں وینٹی لیٹرپر پڑی بے جان ایسوسی ایشن چاہئے یا بیوروکریسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حقوق مانگنے والی ایسوسی ایشن اس بات کا فیصلہ 24نومبر کو ہوجائے گا۔ان خیالات کا اظہار بی پی ایل اے الیکشن میں پروگریسیو پینل کے صدارتی امیدوار پروفیسر آغا زاہد، پروفیسر یاسین بلوچ،پروفیسر عین الدین کبزئی، نائب صدر خواتین پروفیسر ہما گل، پروفیسر ماہین شیر،پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ ودیگر نے گورنمنٹ گرلز کالج جناح ٹاؤن،انٹر کالج کلی شیخان اور کواری روڈ گرلز کالج کے لیکچررز و پروفیسرز سے بی پی ایل اے الیکشن کے سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پروگریسیو کے نمائندہ وفود نے مذکورہ کالجز کے دورے کئے سٹاف رومز میں پروفیسرز و لیکچررز سے بات چیت کرتے ہوئے پروگریسیو رہنماؤں کاکہنا تھا کہ انتخابات ایک جمہوری عمل ہے پروگریسو پینل بلندو بانگ دعوے نہیں کرتا البتہ اس حقیقت کی نشاندہی ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے مد مقابل آج یکجہتی کے نام پر جو لوگ یکجا ہوئے ہیں انہوں نے پچھلے بیس سال کے دوران کالج اساتذہ کے ایسوسی ایشن کی قیادت کرتے آئے ہیں لیکن بیس سال کے دورا ن کالج اساتذہ کی ایسوسی ایشن فعال رہی یا غیر فعال یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں حتیٰ کہ 2018ء سے2020ء تک پروگریسیو پینل نے اپنے دو سال کے قلیل عرصے میں جو کامیابیاں حاصل کیں انہیں بھی متنازعہ بنانے کی کوششیں ہوتی رہیں اب پچھلے دوسال کے دوران پھر سے ایسوسی ایشن بے جا ن ہوچکی ہے اور وینٹی لیٹر پر پڑی ہے اسے فعال او رمتحرک بنانے کی ضرورت ہے اور اس کام کا ہم نے بیڑا ٹھایا ہے ہم کالج اساتذہ کو کسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسرز کا مستقبل اور بقاء بی پی ایل اے کے کردار سے جڑا ہوا ہے۔ پروفیسرز کو سمجھ لینا چاہئے کہ تنظیم سے لاتعلقی مخصوص ٹولے کے مفاد میں ہے پروگریسیو پینل کے نمائندوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بعض عناصر اپنی دو سالہ کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لئے پروفیسرز برادری کے مابین نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں مقابل پینل جس بھی فورم پرچاہے ہم مناظرے اورمکالمے کے لئے تیار ہیں لیکن ووٹ کے حصول کے لئے برادری کے اندر نفرتوں کو بڑھاوا دینا،ذاتی حملے، کردارکشی کی کوششیں باعث تشویش ہیں بطور ایسوسی ایشن بی پی ایل اے نے پچھلے دو سال کے دوران کالج اساتذہ کے بہت سے حقوق سرنڈر کردیئے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھاپچھلے دو سال کے دوران یکجہتی قیادت برسراقتدار آنے سے قبل لازمی تعلیمی ایکٹ، بی ایس پروگرام کے تحت مراعات و سہولیات کے حصول،ٹائم سکیل نوٹیفکیشن، ڈسپریٹی ریڈکن الاؤنس، پروفیسرز ہاؤسنگ سکیم اور الیکشن منشور کے تمام نکات پر عملدرآمد کا ڈھنڈورا پیٹتی رہی لیکن منتخب ہونے کے بعد نہ صرف ان تمام نکات او رمنشور کو پس پشت ڈالا گیا بلکہ اس دوران بی پی ایل اے کے آئین کی بھی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی رہیں جس کے باعث آج صوبے کے کالج اساتذہ کو دو سال قبل درپیش مسائل مزید سنگین ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ چوبیس نومبر بی پی ایل اے اور کالج اساتذہ کے مستقبل کے تعین کا دن ہے۔
ہماری جدوجہد کا محوراورمرکزکالج اساتذہ کا وقاراورسربلندی ہے، پروفیسر آغا زاہد

ٹیگز:
پروفیسر آغا زاہد
