پیرس(ڈیلی گر ین گوادر)پیرس ایئرپورٹ پر 18 سال گزارنے والے ایرانی شہری مہران ناصری کریمی انتقال کرگئے۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق 1998 میں مہران ناصری کریمی کو سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے پیرس ایئرپورٹ پر روک لیا گیا تھا جس پر انہوں نے چارلس ڈیگال ایئرپورٹ پر 1988 سے 2006 تک 18 برس گزارے۔1945 میں ایرانی صوبے خوزستان میں پیدا ہونے والے ناصری اپنی ماں کی تلاش میں یورپ گئے تھے، انہوں نے کچھ سال بیلجیئم میں گزارے، برطانیہ، نیدرلینڈز اور جرمنی سمیت دیگر ممالک سے انہیں امیگریشن کی دستاویزات نہ ہونے پر نکال دیا گیا تھا، اس کے بعد وہ فرانس گئے جہاں انہوں نے ہوائی اڈے کے 2F ٹرمینل کو اپنا گھر بنالیا۔
مہران ناصری کو بالآخر 1999 میں فرانس میں رہنے کا حق دے دیا گیا تھا لیکن پناہ گزین کا درجہ اور فرانس میں رہنے کا حق ملنے کے باوجود وہ 2006 تک ہوائی اڈے پر رہے جب انہیں بیمار ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا تھا تاہم اسکے بعد وہ پیرس میں واقع شیلٹر ہوم میں رہے تاہم چند ہفتے قبل ہوائی اڈے پر واپس آئے جہاں ان کی طبعی موت ہوئی۔ناصری کئی سال تک پلاسٹک کے بینچ پر سوتے رہے اور ایئرپورٹ پر کام کرنے والوں سے دوستی کر لی، وہ عملے کے واش روم میں نہاتے، ڈائری لکھتے، رسائل پڑھتے اور آتے جاتے مسافروں کو دیکھتے رہتے، ایئرپورٹ کے عملے نے انہیں ’لارڈ الفریڈ‘ کا نام دے رکھا تھا اور وہ مسافروں کے لیے معروف شخصیت بن چکے تھے۔
مہران ناصری کی کہانی نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور اسٹیفن سپیلبرگ نے انکی زندگی پر دی ٹرمینل کے نام سے ایک فلم بھی بنائی، فلم کی ریلیز کے بعد مہران میڈیا کی نظروں میں زیادہ نمایاں ہوگئے اور ایک دن میں چھ، چھ انٹرویوز دینے لگے۔مہران ناصری فلم سے کمائی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ خرچ کرنے کے بعد چند ہفتے قبل ایئرپورٹ واپس آئے تھے جہاں وہ اپنی موت تک زندہ رہے، ایک ایئرپورٹ اہلکار کے مطابق انکے قبضے سے کئی ہزار یورو برآمد ہوئے ہیں۔

