اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) مبینہ حملہ آور کی ویڈیو لیک ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب اور پنجاب حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے، تشدد والی سوچ کی ہمیشہ مذمت اور مخالفت کی ہے، ملزم کو پکڑنے پر پی ٹی آئی کارکن اور پولیس قابل ستائش ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تشدد والی سوچ کی ہمیشہ مذمت، مخالفت کرتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف، مسلم لیگ ن قائد میاں نواز شریف سمیت ہم سب نے افسوس کا اظہار اور ایسی سوچ و ذہنیت کی بھرپور مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور کو پکڑنے والے پی ٹی آئی کارکن اور پولیس اہلکار قابل ستائش ہیں، ورنہ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنی دکانداری چمکانے کے زیادہ مواقع میسر آتے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پنجاب، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب سے فوری رپورٹ دینے کا کہا ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے تحریری طور پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر صوبائی حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات میں جس طرح کی بھی مدد درکار ہوگی وفاقی حکومت دینے کو تیار ہے، وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تفتیش کیلئے سینئر افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ ابتدائی مراحل سے ہی تفتیش کا عمل شفاف اور لائق اعتبار ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ تشدد کی ہر صورت کی مذمت کرتے ہیں، اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ 2017ء اور 2018ء میں مذہبی تعصب کی بنیاد پر تشدد کا شکار رہی ہے، ہمارے اوپر فتوے جاری ہوتے رہے ہیں، ہم نے ہمیشہ درگزر سے کام لیا، تازہ مثال مسجد نبویؐ میں پیش آنیوالا واقعہ ہے، جس میں ایک سیاسی جماعت کے زعماء شامل تھے، وہاں خاتون اور نہ ہی اپنے ملک کی عزت کو روا رکھا گیا، روضہ رسولؐ کے قریب نازیبا جملے کسے گئے اور غنڈہ گردی کی گئی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے ان افراد کو گرفتار کرکے مثالی سزائیں دی، واقعے کے بعد پہلی مرتبہ وزیراعظم سعودی عرب گئے تو ان افراد کی رہائی کیلئے بھی ولی عہد محمد بن سلمان سے گزارش کی اور رہائی دلوائی۔وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی رہنماء کس بنیاد پر واقعے کا ذمہ دار وزیراعظم، وزیر داخلہ اور ایک ادارے کو قرار دے کر حملوں پر اکسا رہے ہیں، فواد چوہدری سے کہتا ہوں کہ آپ کا گھر بھی اسی زمین پر ہے، اگر آپ آگ کو ہوا دینگے تو یاد رکھیں اس آگ میں آپ بھی جلیں گے، اگر دوسروں کے گھروں پر حملے کروائیں گے تو آپ کے گھر بھی نہیں بچ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے عمران خان کی جانب سے ایک بیان دیا کہ اس حملے کی ذمہ داری وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور ایک ادارے کے افسر پر عائد ہوتی ہے، یہ بڑے دکھ کی بات ہے، حملہ آور کا اعترافی بیان دیکھ لیں، جسے آپ کے کارکن نے پکڑ کر پنجاب پولیس کے حوالے کیا، وہاں آپ کی حکومت اور وزیراعلیٰ ہے، بغیر ثبوت اس واقعے کو اپنے مذموم اور گھٹیا مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ملزم کا بیان میڈیا تک نہیں جانا چاہئے تھا، ملزم کا بیان لیک ہوا کیا یہ بھی ہم نے کروایا ہے، کیا پولیس، پنجاب حکومت ہماری ہے؟، ملزم کی ویڈیو میڈیا پر آنے پر وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے استعفیٰ مانگنا چاہئے، پنجاب حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔

