اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ پوری قوم سیلاب متاثرہ بچوں کی خوراک کی فراہمی کیلئے آگے بڑھے۔تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نور خان ایئربیس راولپنڈی پر برطانیہ روانگی سے پہلے سیلاب کی صورتحال اور سیلاب زدگان کیلئے جاری ریسکیو و امدادی کارروائیوں اور بحالی کے کام کے لائحہ عمل پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیرِ اعظم کو NFRCC کی طرف سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو تمام اداروں بشمول NDMA, PDMA اور افواجِ پاکستان کی طرف سے جاری ریسکیو اور ریلیف کی کاروائیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں متاثرہ اضلاع میں انفراسٹرکچر، جانی و مالی اور لوگوں کے روزگار کے نقصانات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک کے تخمینے کے مطابق سندھ کے 23، بلوچستان کے 31 خیبر پختونخوا کے 17 اور پنجاب کے 2 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کیلئے پوری سول و عسکری مشینری اس وقت مصروفِ عمل ہے، اس طرح نقصان کا تخمینہ مکمل ہو جانے کے بعد بہتر طریقے سے بحالی کا کام شروع کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں کو آگاہ کیا کہ تباہی کے درست پیمانے کا تعین کرنے کے لیے جلد مشترکہ سروے کرایا جائے گا ، مزید یہ کہ سیلاب زدگان کے دو ماہ کے گیس اور بجلی کے بل بھی معاف کر دیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے انتہائی شفاف نظام کے تحت اب تک 30 ارب روپے تقسیم بھی کیے جا چکے ہیں اور حکومت سیلاب متاثرین کی فوری نقد امداد کے طور پر اپنے وسائل سے 70 ارب روپے بھی فراہم کر رہی ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے ازبکستان دورے کے دوران دوست ممالک نے ضرورت پڑنے پر مزید مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جس پر مجھ سمیت پوری قوم مشکور ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران سربراہان مملکت کا سیلاب متاثرین کے لیے یکجہتی، مدد اور حمایت پر خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر عوام چاہیں تو خود بھی پہل کر کے امدادی سامان تقسیم کریں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان قابل اعتماد این جی اوز، صوبائی اور وفاقی محکموں اور فوجی مراکز کو عطیہ کریں۔

