کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی خاتون محتسب برائے انسداد ہراسگی صابرہ اسلام نے منگل کو یہاں پارلیمانی سیکرٹری برائے ترقی نسواں ماہ جبین شیران سے ملاقات کی اور بلوچستان میں کام کے مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف ابتک اٹھائے گے اقدامات اور کیسز کی پیش رفت سے آگاہ کیا صوبائی خاتون محتسب نے پارلیمانی سیکرٹری ترقی نسواں کو آگاہ کیا کہ ہراسگی کے مقدمات میں ملوث بعض بااثر افراد بالائی فورم تک اثر رسوخ استعمال کر کے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں نتیجتا صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے فیصلے زائل ہوجاتے ہیں اور ہراسمنٹ میں ملوث عناصر مزید دیدہ دلیری سے ایسے اخلاقی جرائم کو جاری رکھتے ہوئے معاشرے میں خواتین کے لئے مستقل پریشانی کا باعث بنتے ہیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پر فورم پر ہراسمنٹ میں ملوث عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور انہیں غیر ضروری طور پر ریلیف نہ دیا جائے تاکہ سزاوں کے اطلاق سے ایسے عناصر نمونہ عبرت بنیں اور معاشرے میں ہراسمنٹ جیسے سنگین اخلاقی جرائم کا تدارک ہوسکے، پارلیمانی سیکرٹری ترقی نسواں ماہ جبین شیران نے کہا کہ ہراسمنٹ میں ملوث عناصر کسی رعائیت کے مستحق نہیں اس لئے ان کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی رعائیت نہیں ملنی چاہیے انہوں نے کہا کہ رائج الوقت قوانین کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مخصوص قبائلی روایات میں ہراسمنٹ ایک سنگین جرم ہے لہذا ایسے عناصر کسی ریلیف کے مستحق نہیں ماہ جبیں شیران نے صوبائی خاتون محتسب کی کاکردگی پر اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہراسمنٹ سے متعلق زیر ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے اس ضمن میں محکمہ ترقی نسواں ہر فورم پر صوبائی خاتون محتسب سیکرٹریٹ کی مدد و معاونت کرے گا اس موقع پر صوبائی خاتون محتسب صابرہ اسلام نے اپنے ادارے کی کارکردگی رپورٹ پارلیمانی سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں کو پیش کی۔
ہراسمنٹ میں ملوث عناصر کسی رعائیت کے مستحق نہیں، ماہ جبین شیران

ٹیگز:
ماہ جبین شیران
