برطانیہ نے4 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا تھا جو 20 لاکھ افراد کیلئے کافی ہوں گی۔ سب سے پہلے ان لوگوں کو خوراک دی جائے گی جن کو اشد ضرورت ہے۔
اس ویکسین کے95 فیصد نتائج درست آئے ہیں۔ برطانیہ کے ہیلتھ سیکرٹری نے کہا ہے کہ ہم ویکسین عوام تک پہنچانے کیلئے پہلے ہی تیاری کر رکھی ہے۔ برطانیہ میں 16 لاکھ 43 ہزار کورونا کیسز اور59ہزار51 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
میڈیسن اینڈ ہیلتھ کئیر پروڈکشن ریگولیٹری نے ویکسین کی منظوری دی جو اگلے ہفتے سے دستیاب ہوگی۔ فائزر اور بائیوٹیک کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی فراہمی 7 سے 9 دسمبر کے درمیان ہوگی۔
برطانیہ میں کورونا ویکسین بوڑھے افراد سے پہلے موٹاپے کا شکار شہریوں کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ہدایات کے مطابق موٹاپے کا شکار افراد کورونا وائرس سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں اور ایسے افراد کی کورونا سے موت کے امکانات دگنے ہیں۔
ویکسین کی پہلی کھیپ میں ایک کروڑ خوارکیں برطانوی حکومت کے حوالے کی جائیں گی۔ یہ دنیا کی پہلی ویکسین ہے جو کم سے کم وقت10 ماہ میں تیار ہوئی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین دستیاب ہونے کے باوجود لوگوں کو کورونا ایس او پیز کا خیال رکھنا ہوگا۔ ماسک پہننا، سماجی فاصلے کا خیال، کورونا کے ٹیسٹ اور متاثرہ افراد کو قرنطینہ کرنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
ادویات ساز بین الاقوامی کمپنیوں فائزر اور بائوٹیک کا کہنا ہے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین نوے فیصد لوگوں کو کورونا کی لپیٹ میں آنے سے بچا سکتی ہے۔
برطانوی سیکریٹری صحت میٹ ہین کوک کا کہنا تھا کہ دوا کو عوام تک پہنچانے کے لیے ویکسینیشن کلینک ہفتے کے ساتوں دن کھلیں گے اور مختلف مقامات پر قائم کیے جائیں گے۔

