لاہور(ڈیلی گرین گوادر) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جو انقلاب پولیس دیکھ کر دوڑ لگا دے اُسے ڈوب مرنا چاہئے، 20 ہزار افراد بھی بھی جمع نا کر سکنے پر عمران خان کی ذہنی حالت قابلِ رحم ہو گئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے چیئرمین تحریک انصاف کو فتنہ خان کہتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آئیں بائیں شائیں سوائے شرمندگی اور ناکامی کے اعتراف کے اور کچھ بھی نہیں، ان کے 30 لاکھ کے دعوے کے برعکس 20 ہزار افراد بھی جمع نا کر سکنے پر ان کی ذہنی حالت قابلِ رحم ہو گئی ہے۔
فتنہ خان کی آئیں بائیں شائیں سوائے شرمندگی اور ناکامی کے اعتراف کے اور کچھ بھی نہیں۔30 لاکھ کے دعوے کے برعکس 20 ہزار بھی جمع نا کر سکنے پر بیچارے کی ذہنی حالت قابلِ رحم ہو گئی ہے۔عوام نے اسکو پہچان کر مسترد کر دیا ہے۔انقلاب اپنا راستہ خود بناتا ہے، پولیس کے روکنے سے سے نہیں رکتا
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام نے عمران خان کو پہچان کر مسترد کر دیا ہے، انقلاب اپنا راستہ خود بناتا ہے، پولیس کے روکنے سےنہیں رکتا، اور جو انقلاب پولیس دیکھ کر دوڑ لگا دے اُسے ڈوب مرنا چاہئے، کہاں 30 لاکھ کا دعویٰ اور کہاں 10 ہزار تماشائی، کھسیانی بلی کے پاس نوچنے کو کھمبا تو ہوتا ہے لیکن نیم پاگل شخص کے پاس تو وہ بھی نہیں، ایسی ذہنی حالت میں میڈیا سے دور رہنا بہتر ہے۔
جو انقلاب پولیس دیکھ کر دوڑ لگا دے اُسے ڈوب مرنا چاہئے۔کہاں 30لاکھ کا دعویٰ اور کہاں 10ہزار تماشائی! کھسیانی بلی کے پاس نوچنے کو کھمبا تو ہوتا ہے،اس نیم پاگل شخص کے پاس تو وہ بھی نہی— ایسی ذہنی حالت میں میڈیا سے دور رہنا بہتر ہے۔
نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ عمران خان جس سپریم کورٹ کو چند دن پہلے تک گالیاں دے رہے تھے، آج اسی سپریم کورٹ کی آڑ لے کر اپنے انتشار کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں، سپریم کورٹ کو چوکنا رہنا ہوگا اور اس سیاسی لڑائی سے خود کو الگ رکھنا ہوگا، ورنہ جانبداری کا تاتر مضبوط ہوگا جو عدلیہ کے لیے بطور ادارہ نقصان دہ ہے۔
فتنہ خان جس سپریم کورٹ کو چند دن پہلے تک گالیاں دے رہا تھا آج اسی سپریم کورٹ کی آڑ لے کر اپنے انتشار کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔ سپریم کورٹ کو چوکنا رہنا ہو گا اور اس سیاسی لڑائی سے خود کو الگ رکھنا ہو گاورنہ جانبداری کا تاتر مضبوط ہو گا جو عدلیہ کے لیے بطور ادارہ نقصان دہ ہے
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جو اس فتنہ کی فتنے بازی کا شکار ہوئے اور اس کے بلوایوں اور مسلح جتھوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے، ان کے گھروں میں جا کر ان کے لواحقین کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا چاہیے اور انُ سے معافی مانگنی چاہیے۔

