لاہور(ڈیلی گرین گوادر) کراچی کی دعا زہرہ گمشدگی کیس میں ڈرامائی موڑ آ گیا۔ دعا زہرہ کا کہنا ہے والدین اس کی زبردستی شادی کرانا چاہتے تھے۔ اس نے بھاگ کر ظہیر سے شادی کر لی۔دعا زہرہ کہاں ہے؟پولیس کو پتہ چل گیا ۔ کراچی سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ کو لاہور پولیس نے حویلی لکھا کے نواحی گاؤں 40 ایس پی سے ٹریس کیا۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق دعا زہرہ اور اس کا خاوند دونوں اس وقت لاہور پولیس کی تحویل میں ہیں ۔ دعا زہرہ کے حوالے سے کراچی پولیس کو بھی اطلاع کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے لاہور پولیس کی اسپیشل ٹیمیں رات بھر لڑکی کی تلاش میں آپریشن کرتی رہیں۔
دعا زہرہ کا اپنے خاوند کے ساتھ پولیس کو دیا گیا ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا۔ اس نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ والدین کسی اور سے شادی کرانا چاہتے تھے ۔ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ اپنی مرضی سےشادی کی ہے۔ لڑکی نے مزید کہا میری عمر چودہ کی بجائے اٹھارہ سال ہے۔ دوسری طرف دعا زہرہ نے لاہور کی سیشن عدالت میں والد کے خلاف دعویٰ بھی دائر کر دیا ہے ۔ دعوے میں دعا نے مؤقف اپنایا کہ میرے والد ، کزن زین العابدین سے زبردستی میری شادی کروانا چاہتے ہیں۔ اٹھارہ اپریل کو والد نے کزن کے ساتھ لاہور میں انکے شوہر کے گھر گھس کر انہیں زبردستی اغوا کرنے کی کوشش بھی کی۔ سیشن عدالت نے دعا زہرہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔

