کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اخترجان مینگل نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جام کمال خان کو بی این پی کے ووٹوں کی حیثیت تب پتا چلی جب انہی ووٹوں نے انہیں اقتدار سے نکال کر بنی گالہ اور گھر بھیجا، ہمارے چار ووٹو ں کی حیثیت آج بھی 100ووٹوں سے زیاد ہے،سینیٹ انتخابات میں بڑے بڑے نواب بکے مگر بی این پی کے غریب کے بچے نہیں بکے اور پارٹی فیصلوں کے پابند رہے صوبے میں وزراتیں نہ لینے کا فیصلہ میرا نہیں پارٹی کا تھا،وزیراعظم سے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کام کا آغاز کروائیں تاکہ لوگوں کی جانوں کا تحفظ ہو سکے نوکریوں، عہدوں سے زیادہ ضرورت لاپتہ افراد کی بازیابی پر مرکوز ہے جس حد تک ممکن ہوا چھ نکات پر عملدآمد کروائیں گے، یہ بات انہوں نے اتوار کو بی این پی کے رہنماء حاجی عبدالباسط لہڑی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنر کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر بی این پی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، ارکان اسمبلی ملک نصیر شاہوانی، ثناء، بی این پی کے رہنماء غلام نبی مری نے بھی خطاب کیا،تقریب میں ارکان اسمبلی اختر حسین لانگو، حمل کلمتی، احمد نواز بلوچ، پراسیکوٹر جنرل ساجد ترین، نوابزادہ اورنگزیب جوگیزئی سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار اخترجان مینگل نے کہا کہ 2018میں پی ٹی آئی کی حکومت سے اتحاد کیا تو ہمیں بڑی بڑی وزراتوں کی پیش کش کی گئی لیکن ہم نے لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت چھ نکاتی معاہدہ کیا ہم نے ایوانوں، جلسوں اور احتجاجی کیمپس میں کہا ہے کہ بلوچستان کی ماؤں کی آنکھ سے نکلنے والے آنسو کے مقابلے میں نہ وزرات اور نہ ہی پاکستان کی حکمرانی قبول ہے ہمیں اس بات کا ادراک اس لئے ہے کیونکہ ہمارے کارکن اور بھائی لاپتہ ہوئے ہیں وہ لوگ جنکی ایک مرغی بھی کبھی گم نہیں ہوئی انہیں ان باتوں کا احساس نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ میرابلوچستان کے عوام اور کارکنوں سے وعدہ ہے کہ جب تک ماؤں کے بچے واپس نہیں ملتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی اپنے آپ کو صادق اور امین کہتے تھے ہم نے صدر مملکت، وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں ووٹ لینے کے بعد وزراء نجی محفلوں میں کہتے تھے کہ اب انہیں ہمارے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے وہ مضبوط ہیں لیکن بی این پی کے چار ووٹوں کی حیثیت انہیں اب پتا چلی جب انہی ووٹوں نے انہیں وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ بھیجاانہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاست میں گالم گلو چ نہیں ہے ہمارے مخالفین کے خلاف ہم انتخاب لڑتے ہیں انکا مقابلہ کرتے ہیں مگر کبھی بد زبانی نہیں کرتے ہم بیرون ملک سے پڑھے لکھے نہیں ہیں مگر ہمارے والدین نے ہمیں ادب واحترام سیکھایا ہے آج بھی ہمارے کارکنوں کو منع کیاہے کہ وہ مخالف جماعتوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال نہ کریں انہوں نے کہا کہ آج جو الفاظ اور زبان مقدس ایوانوں اور جلسوں میں استعمال ہورہی ہے ہم وہ گلی کوچوں میں بھی استعمال نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست اصولوں کی سیاست ہے آج ہمارے 4ووٹوں کو 100ووٹوں سے زیادہ اہمیت اور عزت ہمارے اقدار کی وجہ سے ملی ہے انکا وزن ہماری ماؤں بہنوں کی دعاؤں اور بزرگوں کی تربیت کا نتیجہ ہے سردار اخترمینگل نے کہا کہ پارٹی کارکنوں نے ہمیں ایوانوں میں منتخب کر کے بھیجا ہے کوشش ہے کہ ہم انکی توقعات پر پورا اترتے ہوئے انکا سر جھکنے نہیں دیں انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو روزگار نہیں دے سکے نہ ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہائیں ہیں لیکن ہمارے مخالف بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان کے ایوانوں میں اگر بلوچستان کی آواز گونج رہی ہے تو بلوچستان نیشنل پارٹی کی بدولت ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں بھی ہمارے اراکین ہیں ہم سے بھی کمزوریاں اور کوتاہیاں ہوتی ہیں اسکے باوجود ہمارے ارکان نے بے ایمانی نہیں کی اور پارٹی نے جو فیصلہ کیا ہم سب اسکے پابند رہے انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایک ووٹ لیکر آئے انہیں اپنا حلقہ تک نہیں معلوم اور جب انہیں پیش کش ہوئی تو وہ جوتے چھوڑ کر گورنر ہاؤس پہنچ گئے انہوں نے کہا کہ وزارتیں چھوڑنا میرا نہیں بلکہ پارٹی کا فیصلہ تھا جس کے ہم سب پابند ہیں صوبے میں سبزی منڈی کی طرھ وزارتیں بٹ رہی تھیں سینیٹ میں کروڑوں روپے میں ایک ووٹ بک رہا تھا بڑے بڑے نواب بکے مگر یہ غریب کے بچے نہیں بکے اور پیسوں کو ٹھوکر مار کر پارٹی کے فیصلے کو عزت دی انہوں نے کہ کہ جام کمال کو بھی بی این پی کے 10ووٹوں کو وزن پتا چل یا اب وہ در بدر گھوم رہے ہیں ہماری کسی سے دشمنی نہیں ہے لیکن جو بلوچستان سے دشمنی گریگا تو ہمارا بھی دشمن ہوگا جو بلوچستان کی قدر کریگا ہم اسے دونوں ہاتھوں سے سلام کریں گے جب تک ہماری جان ہے ہم کسی کو بلوچستان کی عزت سے کھیلنے نہیں دیں گے انہوں نے مزید کہاکہ ڈیڑھ ماہ کافی مصروف رہا ہم نے عہدوں کے لئے نہیں بلکہ بلوچستان کی وفاداری میں سب کچھ کیا ہے مجھے عہدوں یا میری ذات سے زیادہ ورکر عزیز ہیں ہمیں صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا نوکریاں یا مفادات ہی سب کچھ نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر جب لوگ سفر کرتے ہیں تو انکی سلامتی کے لئے دعائیں اور نوافل ادا کئے جاتے ہیں میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہاکہ اس شاہراہ پر کام کا افتتاح کروایا جائے تاکہ لوگوں کی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں انہوں نے کہا کہ بی این پی ایک علاقے نہیں بلکہ پورے بلوچستان اور یہاں بسنی والی اقوام اور مذاہب کی جماعت ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وقت کم ہے لیکن ہم چھ نکات پر جس حد تک ہوا عملدآمد کروانے کی کوشش کریں گے عوام کو تعلیم،سڑکیں،روزگار بھی دیں گے لیکن جب چھ، چھ سال سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ میرے پاس اپنی درخواستیں لاتے ہیں تو کیا ہم انہیں چھوڑ کر نوکریاں دینے میں لگ جائیں انہوں نے کہا کہ ہم مصنوعی نہیں حقیقی سیاست کر رہے ہیں پارٹی کارکن مسائل اور تحفظات کا اظہار ضرور کریں مگر اسکے لئے سوشل میڈیا نہیں بلکہ پارٹی میٹنگز کا پلیٹ فارم استعمال کریں
سینیٹ انتخابات میں بڑے بڑے نواب بکے مگر بی این پی کے غریب کے بچے نہیں بکے ٗ سردار اخترجان مینگل

ٹیگز:
سردار اخترجان مینگل
