کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ویزا کے اجراء، ہیلتھ کارڈ کے شروع کرنے،صوبہ بھر کے سکولوں میں عبوری بنیادوں پر اساتذہ کی خدمات،ماہی گیر کشتیوں کی رجسٹریشن کی پالیسی میں ایک مرتبہ چھوٹ دینے، کیڈٹ کالجز ترمیمی ایکٹ 2022کے مسودہ، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کے مطالبات سمیت دیگر 39نکات کی منظوری دے دی ہے، ظہور بلیدی اپوزیشن کے حلقوں کو فنڈز دینے پر ناراض ہوئے آج انہی سے مدد مانگ رہے ہیں، ارکان اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں چڑھانا سابق وزیراعلی جام کمال خان کا ذاتی فیصلہ تھا، اکبر آسکانی محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہیں، یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفننگ دیتے ہوئے کہی، اس موقع پر عبدالرشید بلوچ، بشریٰ رند بھی انکے ہمراہ تھے، سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ کابینہ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے صوبے میں طویل مدت قیام کی پالیسی کی منظوری دی ہے جس سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا وفاقی حکومت سے سرمایہ کاروں کو ویزاء کے اجراء کا کہیں گے،انہوں نے کہا کہ کابینہ نے بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام پر عملدرآمد اور اس کی فوری طور پر لانچنگ کی منظوری بھی دی اس سہولت سے بلوچستان کے 18لاکھ خاندان مستفید ہوں گے جنہیں فی خاندان 10لاکھ روپے کا ہیلتھ کور میسر ہوگا کابینہ نے صوبے میں خضدار اور پنجگور میں خود مختار ہسپتالوں کے قیام کے دو بلوں کی منظوری دی صوبائی کابینہ نے سٹاپ گیپ انتظام کے تحت صوبہ بھر کے سکولوں میں عبوری بنیادوں پر اساتذہ کی خدمات کے حصول کی منظوری دی منصوبے کے تحت پڑھے لکھے نوجوان اسکولوں میں تعلیم فراہم کریں گے جس کے عیوض انہیں 25سے40ہزار تک وظیفہ دیا جائیگا سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان ہوٹل اور ریسٹورنٹ رولز 2022،مینگروو کے جنگلات کے تحفظ کے نوٹیفکیشن، بلوچستان فوڈ اتھارٹی رولز2022،ماہی گیر کشتیوں کی رجسٹریشن کی پالیسی میں ایک مرتبہ چھوٹ دینے کی تجویز،بلوچستان فشریز آرڈیننس 1971میں ترمیم کے تحت فشریز پیٹرولنگ سٹاف کی بحیثیت فورس تشکیل دینے،بلوچستان بلڈنگ کنٹرول اینڈ ٹاون پلاننگ کے قوائد 2021، بلوچستان بیچلر آف سائنس پروگرام کے تحت صوبے کے تمام ڈگری کالجزمیں بنیادی ڈھانچے کے قیام،بلوچستان کیڈٹ کالجز ترمیمی ایکٹ 2022کے بل کے مسودے،ملٹری آفیشل /کیڈٹ کالجوں کے بورڈ آف گورننس میں نمائندگی،حرماذین سٹوریج ڈیم زہری ضلع خضدار کے تخمینہ لاگت میں اضافے،کچھ ڈیلے ایکشن ڈیم ضلع کوئٹہ کی ڈی سلٹنگ کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، کچھ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور کوئٹہ میں پانی کی ضروریات کو بڑی حد تک پورا کیا جاسکے گا انہوں نے کہا کہ کابینہ نے آئینی ترمیمی بل 2020برائے ترمیم آرٹیکل89اور آئینی ترمیمی بل 2021برائے ترمیم آرٹیکل 62کو بھی منظور کرلیا یہ بل بالترتیب سینیٹر میاں رضا ربانی اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی جانب سے پیش کئے گئے تھے انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ہاؤس ریکوزیشن الاؤنس میں اضافے،پینشن کیسزڈسپوزل کمیٹی کی پیش کی جانے والی سفارشات ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس اور پیرا میڈیکل سٹاف اور کلاس فور کے مخصوص ملازمین کیلئے رسک الاؤنس میں اضافے،پی جی ایم آئی سے شیخ خلیفہ بن زید النہیان ہسپتال کی ٹیچنگ فیکلٹی کے لئے ٹیچنگ الاؤنس،اوستہ محمد تا باغ ہیڈ 10کلو میٹر سڑک کی تعمیر و توسیع کے منصوبے کے نظر ثانی پی سی ون،تعمیراتی خدمات کے شعبہ پر عائد بلوچستان سیلز ٹیکس کو متوازن بنانے کی منظوری بھی دی ہے، انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ2022اور بلوچستان کمپنی پرافٹ ایکٹ 2022کے مسودات،ضلع کوہلو میں رحمان آباد سفید کے نام سے سب تحصیل کے قیام، بلوچستان پبلک پرکیورمنٹ قوائد 2014میں ترمیم، بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سروس رولز،پی ایس ڈی پی 2021-22میں شامل شہری و دیہی ترقی کے پروگرام کے تین منصوبوں کی تخمینہ لاگت میں اضافے کی تجویز بھی منظورکرلی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب نہیں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رہائشی ویزا دینے کی سفارش کی ہے غیر ملکی سرمایہ کار کو ووٹ کا حق نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کا اقتدار چھین گیا جوانہیں ناگوار گز ر ہا ہے صوبے کی بہتری کے لیے سب سے تجاویز لیں گے آئین وزیر اعلیٰ کو اختیار دیتا ہے وہ کس کو وزارت دے کس سے وزارت لے ظہور بلیدی اس لیے ناراض ہوئے کہ ان کے حلقے میں اپوزیشن کو ترقیاتی فنڈز کیوں دئیے لیکن آج وہ انہی سے مدد مانگ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ وزارت اعلیٰ کا خواب دیکھ رہے ہیں موجودہ حکومت کو جب تک عوامی نمائندوں کا اعتماد حاصل ہے ہم عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔
ارکان اسمبلی پر بکتر بند گاڑیاں چڑھانا سابق وزیراعلی جام کمال خان کا ذاتی فیصلہ تھا،،سردار عبدالرحمن کھیتران

ٹیگز:
سردار عبدالرحمن کھیتران
