لورالائی (ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ا میر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے جو خط جلسے میں دیکھایا وہ صرف ایک ڈرامہ تھا جو کہ وہ عوام کو جزباتی بنانے کی ایک ناکام کوشش تھی کوئی خط کسی بھی جانب سے نہیں آیا امریکہ کے وزارت خارجہ اور یورپین یونین نے خود اسکی تردید کی انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر رحریک عدم اعتماد کو لٹکانہ کی کو شش کر رہے ہیں ائین پاکستان کی اس وقت کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے اگر اتوار کو بھی تحریک پر رائے شماری میں انہوں نے کوئی رکاوٹ ڈالی تو اسکے خلاف اسمبلی میں بھر پور احتجاج ہوگا اور عوامی تحریک کی کال دے دینگے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کی اپوزیشن کو پیشکش کی اور ہماری پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو واپس لینے کی شرط کی جسکو اپوزیشن نے مسترد کر دیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے گذشتہ ماہ قوم سے اپنے خطاب میں بجلی کے نرخ میں فو یونٹ جس کمی کا اعلان کیا تھا اسمیں اب اگلے ماہ چار روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے جو ریلیف عوام کو دیا گیا وہ صرف عوام کے آنکھوں میں دھول ڈالنے کی ناکام کوشش تھی انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی ہٹ دھرمی ضد اور آنا پرستی کو چھوڑ کر فوری طور پر مستعفی ہوں وہ ملک کیلئے خطرے کا باعث بننے کے بجائے عوام کے حال پر رحم کریں انکے عام جلسوں سے وہ اپنی کرسی کو کسی صورت نہیں بجا سکتے سرکاری وسائل سے جلسے کرنے کا عنقریب ان سے حساب کتاب کیا جائیگا مدینہ کی ریاست میں سرکاری وسائل کا اس طرع بیدردی سے ضیاع انھیں زیب نہیں دیتا اگر وہ بنی گالا رخصت نہ ہوئے تو انھیں پارلیمانی طریقے سے ہم رخصت کرینگے وہ اپنے آپکو علم قل سمجھتے ہیں کہ اگر میں اوزیر اعظم نہ رہا تو کوئی بھی اس منصب پر نہیں آسکتا جو کہ انکی غیر جمہوری اور غیر ائینی سوچ کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اسپیکرز گورنرز اور صدر سبکو فارغ کرینگے انکے خلاف بہت جلد جھاڑو پھیرے گا انہوں نے کہا کہ صوبوں میں بھی تحریک عدم اعتماد لا ئینگے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک جمع ہونے کے بعد انکی کوئی ائینی حیثیت بھی نہیں رہی پہلے وہ اتوار کو اسمبلی سے اپنی اکثریت ثابت کریں اگر انہوں نے کوئی گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو ہم بھر پور جواب کا حق رکھتے ہیں ہم اپنا ائینی حق استعمال کر رہے ہیں ملک میں موجودہ نااہل حکومت کو ایک سیکنڈ کیلئے بھی برداشت نہیں کرینگے ملک کے وزیر اعظم بچگانہ حرکتوں پر اتر کر عام جلسوں میں جس طرع قائد جے یو ائی وپی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آصف علی زرداری بلاول بھٹو نواز شریف اور شہباز شریف کو جس طرع ٹارگٹ بنا رہے ہیں اس سے صاف لگتا ہے کہ انھیں م ان قومی رہنماوں سے سخت ڈر وخوف محسوس ہو رہا ہے ایک وزیر اعظم ملک میں گالی گلوچ ناشا ئستہ زبان کے استعمال سے ملک میں کس طرع کا کلچر لانا چاہتے ہیں انکی حرکتوں سے ملک و قوم کا مستقبل تباہ ہونے کا خطرہ پید اہوگیا ہے ہم اپنے قائد و دیگر کا دفاع بخوبی کر سکتے ہیں اگر وزیر اعظم اور انکے وزراء نے اپنی زبانوں کو لا لگام نہ دیا تو ملک میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے وزیر داخلہ شیخ رشید وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور دیگر معاونین اپنے وزارتوں کیلئے حدود پار کر کے اپنی کرسی پکی کرنے کی کوشش کررہے ہیں انکی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے وہ ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں کوئی ضمیر نہیں ہے ا نہوں نے کہا کہ غیر منتخب فصلی بیٹرے بیرون ملک بھاگ جائینگے لیکن انھیں بھاگنے نہیں دینگے انکا کڑا احتساب ہوگا ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے حدود میں رہ کر کام کر یں یہ کام سیاستدانوں اور عوام کا ہے منتخب نمائندے پارلیمنٹ اور عوام کو جوابدہ ہیں احتساب کا حق صرف عوام کو حاصل ہے ملک میں مہنگائی نے 73 سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ملک اور عوام کے بہتر مفاد میں فیصلے کرینگے عام الیکشن قریب ہیں عوام کو دو تین روز بعد اہم خوشخبریاں ملنے کو ملیں گی۔
وزیر اعظم نے جو خط جلسے میں دیکھایا وہ صرف ایک ڈرامہ تھا،مولانا عبد الواسع

ٹیگز:
مولانا عبد الواسع
