سابق وزیرِ اعظم، ن لیگی رہنما شاہد خاقان نے مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بے انتہا ہے، حالانکہ وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں اضافی بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپرا کے مطابق 5400 میگا واٹ بجلی کا شاٹ فال ہے، عوام کو ہر یونٹ پر 4 روپے 68 پیسے اضافی دینا پڑیں گے، 4 سال گزرنے کے بعد نہ ایل این جی ٹرمینل بنا، نہ ہی ایک فٹ پائپ لائن ڈالی گئی۔سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ آج ملک میں بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، مسلم لیگ ن مسائل حل کرتی ہے، بہانے نہیں بناتی۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ جس حد تک مسائل اور بگاڑ آ چکا ہے، یہ سب حقائق عوام کو بتانا ضروری ہے کہ یہ سب کچھ حکومتی نااہلی کی وجہ سے ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جیسا ملک ڈیزل سے بجلی نہیں بناتا، جبکہ پاکستان میں بڑی مقدار میں ڈیزل سے بجلی بنائی گئی۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جو معاہدے ن لیگ نے کیے تھے ان کے سوا کوئی ایل این جی ہمارے پاس نہیں ہے، ابھی مارچ اپریل ہے، بتائیں جون اور جولائی میں کیا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جب آئی تھی تو اضافی بجلی پیدا ہو رہی تھی، جھوٹ بولنے کے لیے بھی عقل چاہیے ہوتی ہے، پی ٹی آئی کے لوگ ساڑھے تین چار سال سے رو رہے ہیں۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ اس وقت عوام کی یہ حالت ہے کہ 26 ہزار کروڑ روپے عوام کو دینا پڑ رہے ہیں، ملک 2018ء میں سستی ترین بجلی بنا رہا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ سستی ترین ایل این جی لینےوالے ملک کی آج یہ صورتِ حال ہے، یہ سب اس نااہل حکومت کے باعث ہے، یہ 4 سال روتے ہی رہے کام ایک پیسے کا نہیں کیا۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج ملک میں گندم امپورٹ ہورہی ہے، پی ٹی آئی والے جھوٹ بولتے ہیں کہ بمپر کراپ ہے، کاٹن کی 53 لاکھ بیل ہوئی تھی جو تاریخ میں کم ترین تھی۔
سعودی عرب جیسا ملک ڈیزل سے بجلی نہیں بناتا، جبکہ پاکستان میں ڈیزل سے بجلی بنائی گئی : شاہد خاقان

ٹیگز:
شاہد خاقان
