کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کی جانب سے مطالبات کے حق میں ریڈ زون اور عبدالستار ایدھی چوک پر دھرنا دیا گیا، پولیس کا لاٹھی چارج و شیلنگ،شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم، حکومت اور ملازمین کے درمیان مذاکرات کامیاب دھرنا ختم کردیا، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کی جانب سے 25 فیصد ڈسپیرٹی ریڈیکشن الاؤنس کی فراہمی سمیت دیگرمنظور شدھ مطالبات کے نوٹیفکیشن کے اجراء کے لئے ایوب اسٹیڈیم سمیت کوئٹہ شہر کے دیگر علاقوں سے ریلیاں نکالی گئیں جو کمشنر آفس اور ریڈ زون کے باہر پہنچی جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کے دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کر نے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تاہم ملازمین نے ریڈزون اور عبدالستار ایدھی چوک کے مقامات پر دھرنے دیکر سڑکوں کو ٹریفک کے لئے بند کردیادھرنے کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا شہر میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور بد ترین ٹریفک جام رہا دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بیوکا کے صدر حبیب اللہ مردانزئی سمیت دیگر نے کہا کہ ملازمین کے الاونسس میں 15 سے 25 فیصد اضافہ کیا جائے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کی مہانہ الاونسس کم از کم 20ہزار روپے مقرر کیا جائے مطالبات کی منظوری تک ریڈ زون میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، پر امن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی گئی تو صورتحال کی ذمہ دار انتظامیہ ہوگی،بعدازاں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران ملازمین کے دھرنے میں پہنچنے جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے مطالبات کے حوالیسے کمیٹی بنی ہوئی ہے ملازمین کے مطالبات منظور کرلیے گئے ہیں ملازمین بلاضرورت روڈوں کو بلاک نا کیا کریں، حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد سرکاری ملازمین نے دھرنا ختم کردیا اور پر امن طور پر منتشر ہوگئے
بلوچستان گرینڈ الائنس کی عبدالستارایدھی چوک پردھرنا، پولیس کا لاٹھی چارج و شیلنگ

ٹیگز:
ایمپلائزاینڈ ورکرز
