کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام او ر صوبائی حکومت کے درمیان حکومت سازی کے لئے کوئی معاہدہ نہیں ہوا البتہ وزیراعلیٰ نے خیر سگالی کے طور پر اپوزیشن ارکان کے حلقوں میں 90کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کروانے کی پیش کش کی ہے، عمران خان اور راتوں رات بننے والی جماعتوں کی حکومتیں عوام کے حقوق کا دفا ع نہیں کر سکتیں، ریکوڈ ک پر 50فیصد سے کم حصے پر کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہے، 5مارچ کو سراوان ہاؤس کوئٹہ میں نواب اسلم رئیسانی، 6مارچ کو نوشکی میں سابق صوبائی وزیر غلام دستگیر بادینی، 7مارچ کو دالبندین میں سابق صوبائی وزیر امان اللہ نوتیزئی، 9مارچ کو میر ظفر اللہ زہری مولانا فضل الرحمن کی موجودگی میں جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کریں گے، یہ بات انہوں نے جمعرات کو جمعیت علماء اسلام کے صوبائی دفتر میں صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد سابق صوبائی وزراء میر امان للہ نوتیزئی، میر غٖلام دستگیر بادینی، پرویز رندکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، ارکان اسمبلی میر زابد علی ریکی، واحد صدیقی، حاجی نواز کاکڑ،مکھی شام لعل لاسی، سابق رکن قومی اسمبلی میر عثمان بادینی، سابق صوبائی وزیر عین اللہ شمس سمیت دیگر بھی موجود تھے، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی میں نئی شمولیتوں کے حوالے سے شیڈول مرتب کیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے پارٹی میں شمولیت کی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ آج سابق صوبائی وزراء میرامان اللہ نوتیزئی، غلام دستگیر بادینی اور پرویز رند نے پارٹی میں شمولیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد مولانا فضل الرحمن 5مارچ کو کوئٹہ آئیں گے جہاں سراوان ہاؤس میں نواب اسلم رئیسانی، سردار ظفر گچکی پارٹی میں شمولیت کریں گے جبکہ 6مارچ کو نوشکی میں جلسہ ہوگا جس میں حاجی غلام دستگیر بادینی پارٹی میں شمولیت کریں گے، 7مارچ کو دالبندین میں میر امان اللہ نوتیزئی اپنے ساتھیوں سمیت جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کریں گے جبکہ پرویز رند بھی پارٹی کی قیادت کی موجودگی میں جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کریں گے انہوں نے کہاکہ سابق صوبائی وزیر میر ظفراللہ زہری بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے تاہم انکی شمولیت کی تاریخ مولانا فضل الرحمن کے پروگرام کے حوالے سے طے کی جائیگی البتہ انکی شمولیت کا 8یا 9مارچ کو امکان ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی کوشش ہے کہ وہ نصیر آباد میں بھی فعال اور مضبوط ہو ہم تمام اقوام اور ان کے معتبرین کو دعوت دیتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے جمعیت علماء کا ساتھ دیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آزاد،خود مختار صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد اور سنگل پارٹی حکومت قائم کر کے یہاں کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں مخلوط حکومتوں میں ہمیشہ مداخلت، بلیک میلنگ ہوتی ہے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے حقوق کی سب سے بڑی علمبردار جماعت ہے ہمارا منشور صوبائی خود مختاری ہے جمعیت علماء اسلام کا موقف ہے کہ دفاع، خارجہ، کرنسی، مواصلات کے علاوہ تمام محکمے صوبوں کے حوالے ہونے چاہیئں اور ان میں مرکزکی مداخلت نہیں ہونی چاہیے جب عمران خان اور صوبے میں راتوں رات بننے والی جماعتوں کی حکومت ہو تو صوبے اور عوام کے حقوق کا دفاع نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد این ایف سی ایوارڈ ہونا چاہیے جو نہیں ہورہا، 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارد کودہشتگردی سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مہمان سے ملاقات نہ کرنا روایت کے منافی ہے وزیراعلیٰ کے بارہااصرار پر ان سے ملاقات کی تھی اس ملاقات میں ریکوڈ ک کے حوالے سے اطمینا ن کا اظہار نہیں کیاتھا وزیراعلیٰ نے حال احوال میں بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ جام کمال ریکوڈک میں 10فیصد حصے پر معاہدہ کرنے پر تیار تھے لیکن وہ 35فیصد سے زائد حصہ لارہے ہیں میں نے انہیں یہی کہا کہ جو قوتیں 75سال سے ہمارے معدنی وسائل پر ہمیں دسترس نہیں دے رہیں جب تک ٹیبل پر بلوچستان کے تمام شراکت داروں کو اعتماد میں لیکر معاہدہ نہیں ہوتا ہم انکی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک میں اسٹریننگ کمیٹی میں اسلام آباد کے لوگ ہیں اور صوبے سے صرف ایک وزیراعلیٰ رکن ہیں اس کمیٹی کا چیئرمین وزیراعلیٰ کو ہونا چاہیے اور اراکین صوبے سے ہونے چاہیئں انہوں نے کہا کہ جب تک صوبے 50فیصد حصہ نہیں دیا جاتا ہم ریکوڈک معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے 10سال سے ریکوڈک پر موقف پر جمعیت علماء اسلام اپوزیشن میں ہے عوام ہمارے بیانیے سے مطمئن ہیں جس کی وجہ سے پارٹی میں شمولیتیں ہورہی ہیں ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میرے علم میں حکومت سازی سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے نہ ہی ہمیں تحریری طور پر بتایا گیا ہے البتہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عوامی وزیراعلیٰ ہیں سابقہ حکومت میں ہمارے ارکان کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئیں انکا ازالہ کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کے حلقوں میں 90کروڑ روپے کی اسکیمات دی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت سازی میں اگر ضمیر مطمئن ہوا تو حکومت کا حصہ ضرور بنیں گے کیان جمعیت علماء اسلام کا حکومت کا حصہ بننا شجر ممنوعہ ہے ہم بھی پاکستانی شہری ہیں اور حکومت بنانا ہمارا حق ہے انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت سے حکومت بنائیں گے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے ینگ ڈاکٹرز خود بھی نہیں جانتے کہ انکا مسئلہ کیا ہے البتہ ہماری جماعت نے ان سے رابطہ کیا ہے۔
ریکوڈ ک پر50 فیصد سے کم حصے پرکوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہے، مولانا عبدالواسع

ٹیگز:
مولانا عبدالواسع
