لاہور: ایم پی اے بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، ملزمان ساجد عرف گرما اورمحسن ملو کے واردات میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق ملزم ساجد نے محسن ملو سے مل کر ٹارگٹ کلرز کو ہدایت دی۔ ساجد عرف گرما نے اسلحہ بیچنے والے سے پستول خریدا تھا، ملزم ڈیوٹی فری شاپ پر سکوں کا کام کرتا ہے اور غیر قانونی طور پر انڈر کور اسلحہ کا کاروبار بھی کرتا ہے۔ ملزم ساجد وقوعہ کے بعد سے انڈر گراؤنڈ ہو چکا ہے۔ ایک ریکارڈ یافتہ ملزم محسن عرف ملو بھی واقعہ میں ملوث ہے ساجد گرما نے محسن ملو سے مل کر ٹارگٹ کلرز کو ہدایت دی، ملزمان ساجد گرما اور محسن ملو دونوں ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں۔اس سے قبل کی گئی تفتیش کے مطابق بلال یاسین پر فائرنگ کرنے والوں نے منہ پر رومال لپیٹ رکھے تھے، کچھ دور جا کر رومال ہٹائے، ملزمان کی تصاویر نادرا کو بھجوا دی گئیں، جلد گرفتار کیا جائے گا۔
رکن پنجاب اسمبلی بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ کی تفتیش دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی۔ تفتیشی ٹیموں نے کرائم سین سے شاہدرہ تک 60 پرائیویٹ ڈی وی آرز کی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، جن کی مدد سے ملزموں تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ حملے میں دیسی کی بجائے ترکش نائن ایم ایم کا پستول استعمال ہوا۔ پولیس کے مطابق اسلحہ ڈیلرز سے بھی تفتیش جاری ہے۔ادھر بلال یاسین کا میو ہسپتال لاہور کے سرجیکل آئی سی یو میں علاج جاری ہے
بلال یاسین حملہ کیس، ملزم ساجد نے محسن ملو سے مل کر ٹارگٹ کلرز کو ہدایت دی

ٹیگز:
بلال یاسین
