اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے بعض ارکان کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے براہ راست روابط ہیں، پاکستان میں 80 فیصد دہشت گردی افغانستان سے ہورہی ہے اور دہشت گرد حملوں میں ملوث خودکش بمبار بھی افغانستان سے آتے ہیں۔ حکومت کے پاس ان روابط کے شواہد موجود ہیں، جو ضرورت پڑنے پر پیش کیے جائیں گے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ و سینیٹر محسن نقوی نے اپوزیشن لیڈر کو چیلنج کیا کہ وہ بتائیں کہ آئین کی کس شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے اس معاملے پر جذباتی تقریر کی، حالانکہ آئین میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے اور اس اقدام سے متعلق تمام آئینی پہلوؤں پر غور کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے مذاکرات میں اپوزیشن لیڈر بھی شریک تھے۔ اگر کسی کے پاس یہ مؤقف ہے کہ مذاکرات کسی طے شدہ اسکرپٹ کے تحت ہوئے تو وہ اس کے ثبوت سامنے لائے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں دہشت گردی کے معاملے پر بات ہوئی تھی اور اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پاکستان کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ انہوں نے اسد قیصر کو کہا تھا کہ ان کا مؤقف خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف سے مختلف ہے، اس لیے انہیں صوبائی حکومت سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مذاکرات ابتدا میں دہشت گردی کے مسئلے پر مرکوز رہے، تاہم بعد میں دیگر معاملات بھی زیر بحث آئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن 26 نومبر کو بھی موجود تھا اور اس فیصلے سے پہلے وہ اپوزیشن رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ معاہدے کے مسودے میں مجوزہ تبدیلیوں پر اپوزیشن کے جواب کا پورا دن انتظار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس روز معاہدہ ہوجاتا تو ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مسودے میں 4 مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ چوتھے مرحلے میں 6 تجاویز پیش کی گئیں، جنہیں حکومت نے تسلیم کرلیا۔ حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مذاکرات میں بلایا جائے، لیکن وہ نہیں آئے۔ محسن نقوی کے مطابق اگر پی ٹی آئی کے مذاکراتی وفد کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں تھا تو اسے وزیراعلیٰ کو مذاکرات میں بلانا چاہیے تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم جس صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی قیادت کرنی چاہیے تھی، وہ بات چیت کے لیے تیار نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک صوبے میں پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرتے رہیں اور کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار نہ ہو۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 80 فیصد دہشت گردی افغانستان سے ہورہی ہے اور دہشت گرد حملوں میں ملوث خودکش بمبار بھی افغانستان سے آتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے بعض ارکان کے تحریک طالبان پاکستان سے براہ راست روابط ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس ان مبینہ روابط کے شواہد موجود ہیں، جو ضرورت پڑنے پر پیش کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صوبائی کابینہ کے بعض ارکان نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار مراد سعید کو قرار دیا ہے۔ ان کے بقول صوبے میں فیصلے وزیراعلیٰ کے بجائے مراد سعید کر رہے تھے۔محسن نقوی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں ناکام نہیں ہوگی اور اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک امانت سمجھ کر استعمال کیا جانا چاہیے۔

