کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک عبدالغفار مندوخیل،صدر میر عبدالسلام لانگو اور جنرل سیکرٹری ملک مجیب مہترزئی نے کہا ہے کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ٹھیکیداروں کے جائز حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان اورصوبائی حکومت مختلف محکموں میں من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کا نوٹس لے اور محکمہ پی ایچ ای کوئٹہ ڈویژن کے 80کروڑ کے ٹینڈر 2ٹھیکیداروں کو دینے کا نوٹس لے اور انرجی ڈیپارٹمنٹ کے بعض حالیہ ٹینڈروں میں ورک آرڈرز پر ٹھیکیدار بردری کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں بصورت دیگر آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔یہ بات انہوں نے اتوا ر کو ایسوسی ایشن کے رہنماوں صلاح الدین کبزئی،سرور جان مندوخیل،محمد ادریس جان لانگو،سراج خان کاکڑ،میر بیروز ملازئی،سمیع اللہ کاکڑ، حاجی محمد ابراہیم اچکزئی،میر ابرار رئیسانی، میر عدنان لہڑی، میر سلیم بنگلزئی،صاحبزادہ بسم اللہ خان اوردیگر مختلف اضلاع کے عہدیداروں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر آکشن کے ٹھیکیداروں کے سربراہ محمد خان کی سربراہی میں آکشن ٹھیکیداروں نے باقاعدہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن میں شمولیت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کی تنظیم سازی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور بلوچستان کے تمام اضلاع اور ڈویژنل سطح پر عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے تنظیم کے مرکزی،ڈویژنل اور ضلعی عہدیداروں کی تقریب حلف برداری 3اکتوبر کو کوئٹہ میں منعقد ہوگی جس میں صوبائی وزراء،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی،سینیٹرز، مختلف محکموں کے سربراہوں اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہآل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے ٹھیکیداروں کی مشاورت سے ایسوسی ایشن کا منشور منظور کیا ہے اب یہ منشؤر صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ ہماری آئندہ جدوجہد اور حکمت عملی کی بنیاد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انرجی ڈپارٹمنٹ کے بعض حالیہ ٹینڈرز میں ورک آرڈرز اور متعلقہ اسٹاف سے متعلق شرائط کے حوالے سے ٹھیکیدار برادری میں تحفظات پائے جاتے ہیں ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی تمام شرائط کاجائزہ لیا جائے اوراس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی ٹینڈر میں ایسی غیر ضروری یا غیر مناسب شرائط شامل نہ ہوں اورجو اہل ٹھیکیدار اور رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کی شرکت کو بلاوجہ محدو کرے۔انہوں نے کہاکہ ایسوسی ایشن متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ اگر ای ٹینڈرنگ یا ای پروکیورمنٹ کے نظام میں کسی قسم کی تکنیکی خرابی یا شکایت سامنے آئے تو اسے فوری طورپر روکا جائے تاکہ شفاف مقابلے کے اصول متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے دور میں بی پیپرا کاقیام عمل میں لایا گیا لیکن اب بی پیپرا میں موجود کچھ کالی بھیڑوں کی وجہ سے ٹھیکیداروں کے ریٹ تبدیل کئے جارہے ہیں جس کی ایسوسی ایشن مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ایچ ای کوئٹہ ڈویژن کے حالیہ 80کروڑ روپے کے ٹینڈر 2من پسند ٹھیکیداروں کودیئے گئے ہیں جس کافوری نوٹس لیتے ہوئے ٹینڈر منسوخ کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں عوام کا پیسہ ضائع نہ ہو اہل ٹھیکیداروں کو مساوی مواقع ملیں اور ٹینڈرنگ کا ننظام کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے قبائلی علاقوں پر بھی 8فیصد ٹیکس نافذ کیا ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ جس وقت مختلف محکموں کے ٹینڈر ہوئے اسوقت یہ ٹیکس نہیں تھااب یہ ٹیکس عائد کیا گیا ہے جو ٹھیکیداروں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی(BSDI)کا ہم نے خیر مقدم کیا تھا لیکن اب BSDIمیں بھی من پسند افراد کونوازنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
حکومت محکمہ پی ایچ ای کوئٹہ ڈویژن کے 80کروڑ کے ٹینڈر 2ٹھیکیداروں کو دینے کا نوٹس لے،ملک عبدالغفار مندوخیل

ٹیگز:
ملک عبدالغفار مندوخیل
