کوئٹہ (گرین گوادرنیوز) حکومت بلوچستان نے اپوزیشن ارکان کے خلاف دائر ایف آئی آر واپس لے لی، اپوزیشن ارکان نے بجلی روڈ تھانے سے دھرنا ختم کردیا جبکہ آج پیر کو آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا، اپوزیشن ارکان کا وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ واپس نہ لینے کا بھی اعلان تفصیلات کے مطابق حکومت بلوچستان کی جانب سے 18جون کو بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامی آرائی کرنے پر اپوزیشن کے 17ارکان سمیت 250افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جس پر اپوزیشن ارکان گزشتہ 14روز سے گرفتاری کے لئے بطور احتجاج بجلی روڈ تھانہ میں موجود تھے اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے 6سے زائد دور ہوئے جن کے بعد پہلے مرحلے میں حکومت کی جانب سے مقدمہ ختم کرنے کی بجائے ایف آئی آر میں سے اپوزیشن ارکان کے نام نکال دئیے گئے تھے تاہم اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ احتجاج اس وقت ختم کیا جائیگا جب ایف آئی آر واپس لی جائیگی یا پھر انہیں گرفتا ر کیا جائیگا گزشتہ شب رات گئے صوبائی وزراء میر ضیاء لانگو، میر عارف جان محمد حسنی، میرسلیم کھوسہ پارلیمانی سیکرٹری مبین خان خلجی بجلی روڈ تھانہ گئے جہاں انہوں نے اپوزیشن ارکان اسمبلی کو مقدمہ واپس لینے کا نوٹیفکیشن حوالے کیا نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی رولنگ پر حکومت بلوچستان نے سی آر پی سی کی دفعہ 494اور بلوچستان پراسیکوشن سروس ایکٹ 2003کی دفعہ 10(c)کے تحت بجلی روڈ تھانہ میں ارکان اسمبلی اور دیگر افراد کے خلاف درج ایف آئی آر نمبر 47/2021 عوامی مفاد میں واپس لے لی ہے بلوچستان حکومت کی جانب سے اپوزیشن راکین کیخلاف در ج ایف آئی آر واپس لینے پر اپوزیشن اراکین نے کوئٹہ بجلی روڈ تھا نہ میں 14روز سے جاری احتجاج ختم کر دیا اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے بتایاکہ ہمارا ایف آئی آر کی واپسی کا مطالبہ پورا ہوگیااب ہم تھانے میں اپنا دھرنا ختم کررہے ہیں تاہم نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے ہمارے تحفظات ہیں اس کے حل ہونے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گااپوزیشن اراکین اسمبلی قائد حزب اختلاف ملک سکند ر کی قیادت قافلے کی صورت میں تھانہ بجلی روڈ سے ایم پی اے ہاسٹل پہنچے اپوزیشن کے ہمراہ کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی اس موقع پر اپوزیشن کے رہنماوں ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، ملک نصیر احمد شاہوانی، ثنا بلوچ کا کہنا تھاکہ وہ تھانہ سے اپنا احتجاج ختم کر کے جا رہے ہیں تاہم جام حکو مت کیخلاف اپنا بھرپور احتجاج کرینگے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اتوار کو اپنے اپنے اجلاس کریں گی جس کے بعد پیر کو تمام جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کا لا ئحہ عمل طے کریں گے انہوں نے کہا کہ ابھی تو احتجاج شروع ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر بلوچستان کی عوام نے خلوص رکھا وہ حکومت پر بد اعتماد کا اظہار ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اربوں روپے کی غیر ضروری اسکیمات ہیں ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں کرپشن کا خاتمہ ہو وزیراعلیٰ نے دیکھ لیا ہے بلوچستان کے عوام کا اعتماد حکومت پر نہیں بلکہ حزب اختلاف پر ہے ہم وزیراعلیٰ کے خلاف دی گئی درخواست واپس نہیں لیں گے حکومت نے اپوزیشن ارکان کو کچلنے کی کوشش کی جھوٹا مقدمہ بنایا جسکی انہیں سز ملنی چاہیے
کوئٹہ، اپوزیشن ارکان کا تھانے سے دھرنا ختم

ٹیگز:
اپوزیشن
