کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفد کے ہمراہگزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔وفد میں سینیٹر جان محمد بلیدی رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک شامل تھے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔ملاقات میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر گفت و شنید کی گئی۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں تاحال عوام کو ووٹ کا حق حاصل نہیں عوام کے مینڈیٹ پر شب و خون مارا جاتا ہے بڑی سیاسی جماعتوں کو چاہئے اس حوالے سے مثبت کردار ادا کریں عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے حقیقی قیادت اور حقیقی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کی جائے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور سیاسی مسائل کو بات چیت و مذاکرات سے حل کیا جاتا ہے اس لیے بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی منفی پالیسی کو ترک کرکے مذاکرات کے عمل کو بروئے کار لایا جائے، مذاکرات کے لیئے ضروری ہے کہ ماحول کو سازگار بنایاجائے رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے اعتماد کی فضا بحال کی جائے بلوچستان کے مسئلے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیکر ریفارمز لائے جاہیں جن کے لیئے لازم ہے کہ ہر قسم کے ماوراے آہین و ماورائے عدالت عوامل سے اجتناب کیا جائے، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو جمہوری آواز بلند کرنے اور آزادی اظہار رائے کا حق فراہم کرتا ہے اگر کوئی بھی شخص اگر آئین کے منافی اقدام کرتا ہے تو اس کے حل بھی آئین میں موجود ہیں نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ عوام کی رائے کا احترام ضروری ہے اور وہ جن کو ووٹ کے ذریعے منتخب کراتے ہیں تو ان کو نمائندگی حق حاصل ہو،انتخابی عمل میں دھاندلی و مداخلت عوامی و ملکی مفاد میں ٹھیک نہیں نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ سے بلوچستان کے عوام کا روزگار وابستہ ہے۔بارڈر ٹریڈ کی بندش سے بلوچستان میں مشکلات بڑھ رہی ہے اس لیے ٹریڈ کو بحال کیا جائے اور ساتھ ہی بیورزگار نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے حصول کو ممکن بنایا جائے نیشنل پارٹی کے وفد نے کہا کہ نیشنل پارٹی سیاسی جمہوری جماعت ہے اور عوام کے جمہوری حقوق کے لیے ہرممکن کردار ادا کریگی۔
عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے حقیقی قیادت اور حقیقی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کی جائے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
