کوئٹہ :پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی فاتحہ خوانی نویں روزبھی ان کی رہائش گاہ مسلم باغ میں جاری رہی۔ صوبے اور ملک کے مختلف علاقوں سے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، علماء کرام، قبائلی زعما اورعوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جن میں سابق نگران وزیر اعلیٰ علاؤالدین خان مری بمعہ وفد،پشاور،مردان، ڈیرہ غازی خان،بہاولپور، راجن پور، کراچی، پنجگور،نوشکی، کوہلو، بارکھان،منگوچر، کوئٹہ، چمن، سبی، مستونگ،اور مختلف علاقوں کے وفود شامل تھے۔ غبیزئی قبیلے کے ایک بڑے وفد نے احمد خان غبیزئی کی قیادت میں تعزیت کی، انہوں نے تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید عثمان خان کاکڑ کی بڑی تعریفیں اور باتیں ہم تک پہنچتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان سے قریب سے تبادلہ خیال کا موقع میسر نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا علاقہ ایک عرصے سے بدامنی کا شکاررہا ہے اب ہم اس بدامنی کی تکلیف ومشکلات مزید برداشت نہیں کرسکتے ہمارے عوام کا مطالبہ ہے کہ مقتدر قوتیں پاکستان اور افغانستان میں پشتونوں کی برادر کشی کا خاتمہ کریں میں آج شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے موقع سے یہ استفادہ کرتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری بدبختی کا آغاز 31سال پہلے سے ہوا جس کے خاتمے کی ہم نے بارہا کاوشیں کی ہم چاہتے تھے کہ شہید عثمان خان کاکڑ او ران کے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو اپنا فریاد پہنچا سکے مگر ہمیں یہ موقع میسر نہ ہوسکا۔ آج ہمیں شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم ان کے خاندان، ان کے فرزند خوشحال خان اور سردار آصف خان سے یہ التجا کرتے ہیں کہ شہید عثمان خان کا خاندان پشتونوں کا ایک اہم خاندان ہے وہ ہماری اس بدبختی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، ہم اس بدبختی کی تکلیف کا خاتمہ چاہتے ہیں ہماری خواہش ہے کہ ہماری اس بدبختی اور مسئلے کا حل ہو۔ ہم بدی اور تکالیف کا اعادہ نہیں کرنا چاہتے، ہم شہید کے خاندان اور ان کے پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بھائی چارہ، قرابت داری اور اپنائیت کے جذبے کے ساتھ تعزیت کیلئے آئے ہیں۔ شہید رہنماء کی پارٹی پشتونوں کے وحدت کے علمبردار ہیں وہ پشتونوں میں اتحاد و وحدت پیدا کرنے کیلئے پہلے اپنے گھر میں اتفاق پیدا کریں اگر گھر میں اتفاق نہ ہو تو قوم میں اتفاق کیسے پیدا ہوگا۔ مسائل گلستان میں ہو مسلم باغ میں،قبیلوں اور عوام میں پشتونوں کی وحدت کیلئے ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کی شہادت ایک عظیم انسان کی شہادت ہے جس کی تعزیت نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا کہ ہم یہاں آکر ان کے خاندان اور پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ اپنے مسائل کے خاتمہ کا التجا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم شہید رہنماء کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس مطالبے کی تائید کرتے ہیں کہ شہید عثمان خان کے شہادت کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن قائم ہو جو قاتلوں کا سراغ لگائیں۔ عبدالباری کاکڑ نے تعزیتی اجتماع سے خطاب میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو ان کے قومی خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید عثمان خان کاکڑ جیسا عظیم قومی رہنماء مدتوں میں پیدا ہوتا ہے ان کے جنازے کے جلوس کا بلوچ عوام او رپارٹیوں نے جس عقیدت واحترام کے ساتھ استقبال کیا ہم اس کاشکریہ ادا کرتے ہیں اس عظیم شہید کے نماز جنازہ کے لاکھوں عوام میں ملک کے تمام قوموں اور تمام علاقوں کے شامل تھے۔ اس سے ان کی مقام اور محبوبیت تمام دنیا پر واضح ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ شہید رہنماء کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلانا پشتونوں کی قومی ذمہ داری ہے۔
پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی فاتحہ خوانی نویں روزبھی جاری رہی

ٹیگز:
پشتونخوامیپ
