کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے زیارت کے شہداء کے حق میں کوہلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیارت کے شہداء کو حکومت اور اس کے اداروں نے خود مسلح جتھوں کے حوالے کیا، اور اس پورے المناک، افسوسناک اور وحشت ناک واقعے کی مکمل ذمہ داری حکومت، متعلقہ انتظامیہ اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہیں تو ایسے سانحات جنم لیتے ہیں، جن کے باعث پورا معاشرہ عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیارت کے شہداء کی تعداد تیس ہے، جو پہلے مقامی لیویز میں بھرتی کیے گئے اور بعد ازاں انہیں پولیس میں ضم (کنورٹ) کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہلکار اپنی قومی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے، لیکن انہیں مناسب حفاظتی اقدامات اور مؤثر حکمت عملی کے بغیر ایک خطرناک مقام پر بھیجا گیا، جس کے نتیجے میں یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ان شہداء کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جس طرح ہنہ اوڑک کے شہداء اور ان کے احتجاجی دھرنے کا بھرپور ساتھ دیا گیا، اسی طرح آج زیارت کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ نصراللہ خان زیرے نے اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران جیسے ملک سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جس نے امریکی سامراج اور اسرائیلی صہیونیت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد، باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے اس ناسور سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام سیاسی، جمہوری اور قومی قوتیں ایک مشترکہ مؤقف اختیار نہیں کریں گی، اس وقت تک امن و استحکام کے قیام میں مشکلات برقرار رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ زیارت کے شہداء کے لواحقین کے مطالبات نہایت واضح، آئینی اور جائز ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ایک خودمختار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، جو اس امر کی مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے کہ پولیس اہلکاروں کو ہاتھ باندھ کر مسلح جتھوں کے حوالے کیوں کیا گیا، اور انہیں مانگی ڈیم فیز تھری میں موجود خالی ٹینکر کے مقام پر کس مقصد کے تحت بھیجا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس واقعے میں کون کون ملوث ہے، اس کے محرکات کیا ہیں، وہاں مناسب حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے، اور بروقت کمک کیوں فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو طلب کرکے ان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ ان اہلکاروں کو وہاں تعینات کرنے کے پس پردہ حقائق کیا تھے، اس فیصلے کے ذمہ دار کون تھے، اور اس سانحے میں غفلت یا کوتاہی کے مرتکب عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے کے شرکاء اور لواحقین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ تکتو، زرغون، شعبان، کوہِ مردار، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ اور دیگر ان تمام علاقوں سے، جہاں جہاں مسلح جتھے سرگرم ہیں، ان عناصر کا مکمل صفایا کیا جائے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور علاقے میں پائیدار امن قائم کیا جائے۔ انہوں نے ان تمام مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہر جمہوری اور آئینی فورم پر ان مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی۔ صوبائی صدر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ عوام میں شعور، آگاہی اور اتحاد کو فروغ دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن یہاں موجود ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام سیاسی قوتیں زیارت کے شہداء کو اپنے شہداء سمجھتی ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے ورثاء کو انصاف دلانے کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ دھرنے میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سینئر سیکرٹری سید قادر آغا، صوبائی سیکرٹری خوشحال کاسی سمیت پارٹی کے دیگر صوبائی ایگزیکٹو ارکان اور ہزاروں کارکنان شریک تھے، جبکہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما، کارکن، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
زیارت کے شہداء کے لواحقین کے مطالبات نہایت واضح، آئینی اور جائز ہیں: نصراللہ خان زیرے

ٹیگز:
نصراللہ خان زیرے
