کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ ہنہ اوڑک، کلی ببری میں دہشت گردوں کے حملے میں 4 بے گناہ شہریوں کی شہادت، 11 افراد کے لاپتہ ہونے اور ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں پولیس پر ہونے والے حملے، جس میں 9 پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد اہلکار تاحال لاپتہ ہیں، ریاست، حکومت اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کی سنگین ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کہ صوبے میں نہ شہری محفوظ ہیں، نہ سرکاری اہلکار، اور نہ ہی دور دراز علاقوں میں تعینات پولیس کو مناسب وسائل، جدید اسلحہ، بروقت کمک اور مؤثر سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ وہ ہنہ اوڑک سانحے کے خلاف بی اے مال کے سامنے جاری عظیم الشان احتجاجی دھرنے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ ہزاروں کارکنوں، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس سے قبل انہوں نے خانوزئی میں جاری احتجاجی دھرنے اور زیارت کراس پر جاری احتجاج سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے ان احتجاجوں کو عوام کا جائز، پُرامن اور جمہوری حق قرار دیتے ہوئے ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب تک عوام کو انصاف اور تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، ایسے احتجاج حکومت اور ریاستی اداروں کی ناکامی کی یاد دہانی بنتے رہیں گے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ہنہ اوڑک میں 4 بے گناہ شہریوں کی شہادت اور 11 افراد کا لاپتہ ہونا، جبکہ زیارت میں پولیس اہلکاروں پر حملہ، ان کی شہادت اور اہلکاروں کی گمشدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست اپنے ہی اہلکاروں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، انہیں جدید اسلحہ، بروقت کمک اور مؤثر انٹیلی جنس مہیا نہیں کر سکتی تو عام شہریوں کے تحفظ کے دعوے کیسے قابلِ یقین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کلی ہنہ اوڑک کے تمام 11 لاپتہ افراد اور زیارت حملے میں لاپتہ ہونے والے تمام پولیس اہلکاروں کی فوری، محفوظ اور باعزت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور ان سانحات کے ذمہ دار تمام مسلح گروہوں، جنہیں ریاست کے اثاثے سمجھا جاتا ہے، کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان بدامنی، دہشت گردی، لاپتہ افراد، قتل و غارت گری اور خوف کی فضا کا شکار ہے، مگر حکومتیں اور ریاستی ادارے عوام کو امن فراہم کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔ محض مذمتی بیانات، اعلانات اور وقتی کارروائیاں مسائل کا حل نہیں، بلکہ ریاست کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سرزمین قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں کے عوام کو ان وسائل پر اختیار دینے کے بجائے انہیں بدامنی، محرومی اور خوف کے ماحول میں رکھا جا رہا ہے۔ ریاست کی تمام تر توجہ وسائل کے حصول پر مرکوز ہے، جبکہ مقامی آبادی بنیادی انسانی حقوق، امن، ترقی اور خوشحالی سے محروم ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی واضح طور پر سمجھتی ہے کہ تشدد، دہشت گردی اور مسلح گروہوں کی موجودگی نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ اگر ریاست واقعی امن چاہتی ہے تو اسے ایسی تمام پالیسیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا جن کے نتیجے میں دہشت گردی کو فروغ ملا، اور عوام کو مستقل امن، قانون کی حکمرانی، انصاف اور آئینی حقوق فراہم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون عوام اپنی سرزمین، وسائل، معدنیات اور قومی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور جمہوری، سیاسی اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق کا دفاع ہر صورت جاری رکھیں گے۔ آخر میں خوشحال خان کاکڑ نے ہنہ اوڑک عوامی کمیٹی کے تمام مطالبات کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کلی ہنہ اوڑک کے شہداء کے ورثاء کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، 11 لاپتہ افراد اور زیارت حملے میں لاپتہ تمام پولیس اہلکاروں کی فوری، محفوظ اور باعزت بازیابی یقینی بنائی جائے، دہشت گردی کے تمام واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، اور بلوچستان میں پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے حکومت اور ریاستی ادارے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔
ریاست اپنے ہی اہلکاروں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، انہیں جدید اسلحہ، بروقت کمک اور مؤثر انٹیلی جنس مہیا نہیں کر سکتی تو عام شہریوں کے تحفظ کے دعوے کیسے قابلِ یقین ہو سکتے ہیں : خوشحال خان کاکڑ

ٹیگز:
خوشحال خان کاکڑ
