چارسدہ (ڈیلی گرین گوادر) چارسدہ میں معروف عالمِ دین شیخ محمد ادریس کی ٹارگٹ کلنگ کو مبصرین نے محض ایک واقعہ نہیں بلکہ مذہبی شخصیات اور سماجی استحکام کے خلاف ایک منظم سلسلے کی کڑی قرار دیا ہے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں معروف عالمِ دین شیخ محمد ادریس ایک ٹارگٹڈ حملے میں جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار، پرویز اور شیر عالم، زخمی ہو کر قریبی طبی مرکز منتقل کیے گئے۔ یہ واقعہ ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں شدت پسند عناصر مسلسل ایسے علما کو نشانہ بنا رہے ہیں جو عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی تعلیمات، امن کے پیغام اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔ چارسدہ میں شیخ محمد ادریس پر حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد مذہبی علما، عوامی استحکام، معاشرتی اعتماد، قانون کی عملداری اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔
شیخ الحدیث محمد ادریس کی شہادت، حملہ آور کون ؟

ٹیگز:
شیخ الحدیث محمد ادریس
